Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
259 - 475
سیّدُنا ابو عُبَیْدہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےتفسیری اَقوال
(5343)... فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾ (پ۱۶،مریم:۵۹)
	ترجمۂ کنز الایمان: تو عنقریب وہ دوزخ میں غَی  کا جنگل پائیں گے۔
	غَی سے مرادجہنم کی ایک نہر ہے۔
(5344)...   وَلَنُذِیۡقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوۡنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ (پ۲۱،السجدة:۲۱)	
ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم اُنہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے۔
	اس (نزدیک کے عذاب) سے مراد عذابِ قبر ہے۔ 
(5345)...  فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾ (پ۱۶،مریم:۵۹)	
ترجمۂ کنز الایمان: تو عنقریب وہ دوزخ میں غَی  کا جنگل پائیں گے۔
	’’غی‘‘ جہنم کی ایک وادی ہے جس کا کھانا بہت بد ذائقہ اورگہرائی بہت زیادہ ہے۔
(5346)... اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾  (پ۱۱،التوبة:۱۱۴)	 
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک ابراہیم ضروربہت آہیں بھرنے  والا مُتَحَمِّل ہے۔
	”اَلْاَ وَّاہ “سے مراد’’اَلرَّحِیْم‘‘ (یعنی مہربان) ہے۔
(5347)...  اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَۃٌ قَلِیۡلُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾ (پ۱۹،الشعراء:۵۴)
	ترجمۂ کنز الایمان: کہ یہ لوگ ایک تھوڑی جماعت ہیں۔
	وہ لوگ (یعنی  وہ بنی اسرائیل جن کی طرف فرعون نے لوگ بھیجے)چھ لاکھ ستّرہزار تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شَماتت کی تعریف
٭…اپنےکسی نسبی یامسلمان بھائی کےنقصان یااُس کوپہنچنےوالی مصیبت وبلاکودیکھ کرخوش ہونےکوشَماتت کہتےہیں۔
(الحدیقةالندیة،۱/ ۶۳۱)