Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
258 - 475
 پھٹا اور دماغ بکھر گیا۔(1)
(5340)...حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایا کرتے تھے:لوگوں میں سے کوئی بھی  لال،کالا، عجمی ہو یاعربی تقوٰی میں مجھ سے زیادہ ہو تو میں پسند کروں گا کہ اس کی کھال کا ایک حصہ بن جاؤں۔
صالحین کا ذکر:
(5341)...حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سوال کیا: اے ابو عبدالرحمٰن!رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموصالِ ظاہری فرما چکےاب وہ کہاں ہیں؟آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: وہ جنت میں ہیں۔انہوں نے پھر سوال کیا :حضرتِ سیِّدُناابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وفات پا چکے اب وہ کہاں ہیں؟آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا : وہ تو ہر بھلائی کو تلاش کرنے میں جلدی کرنے والے تھے۔انہوں نے پھر پوچھا: حضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وفات پا چکے اب وہ کہاں ہیں؟ حضرتِ سیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا: جب بھی صالحین کا ذکر کیا جائے تو حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر بھی کیا کرو۔
(5342)...حضرتِ سیِّدُنا ابوعبیدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں عادل بادشاہ کی شکایات نہیں ہوتیں جبکہ ظالم بادشاہ کی شکایات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں کثرت سےہوتی ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نمرود تمام دنیا کا بادشاہ تھا اس کاپایَۂ تخت شہر بابل میں تھا اس نے حضرتِ سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامسے مناظرہ کیا تو خائب خاسر ہوا۔ ربّ تعالی نےظالم نمرود کے پاس شکل انسانی میں ایک فرشتہ بھیجا، جس نے آکر کہا: تیرارب کہتا ہےتو مجھ پر ایمان لا ہم تیری سلطنت برقرار رکھیں گے ۔ وہ بولا رب تو میں ہی ہوں میرا رب کون ہے تین دفعہ یہ واقعہ ہوا تب اس کے لشکریوں پر مچھروں کا عذاب بھیجا گیا۔ مچھروں کی زیادتی کا یہ حال تھا کہ اس سے سورج چھپ گیا تھا۔ زمین پر دھوپ نہ آتی تھی مچھروں نے ان کے خون چوس لئے گوشت چاٹ لئے سوا نمرود کے باقی سب کی ہڈیاں ہی باقی رہ گئیں نمرود دیکھتا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھاپھر ایک مچھر اس کی ناک کے ذریعہ دماغ میں گھس گیا اور چار سو سال تک مغز چاٹتا رہا جب اوپر سے دھمک پہنچتی تو کاٹنا چھوڑ دیتا ورنہ کاٹتا چنانچہ دن رات اس کے سر پر جوتے اور تھپڑ پڑتے تھے۔ اب اس کے دربار کا ادب یہ تھا کہ جو آئے اس کے سر پر جوتا رسید کرے۔ اس سے پہلے چار سو سال بہت آرام سے سلطنت کی اور چار سو برس پٹتا رہا۔ پھر بَہزارذِلَّت مرا اس کی عُمْر  آٹھ سو سال سے کچھ زیادہ ہی ہوئی۔ (تفسیر نعیمی، ۳/۶۱،ملتقطاً)۔