Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
257 - 475
صحابَۂ کرام کا حسن ظن:
(5337)...حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہ بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میرے والدِ ماجد نے فرمایا: جب تم اپنے مسلمان بھائی کوگناہ کرتے دیکھو تو یہ کہتے ہوئے شیطان کے مدد گار نہ بنناکہ اےاللہ اس کو ذلیل کر، اس پر لعنت فرما۔بلکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے عافیت کا سوال کرنا،بےشک ہمرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے صحابہ ہیں ہم کسی کے بارے میں اس وقت تک کچھ نہیں کہتے جب تک یہ نہ جان لیں کہ اس کی موت کس پر ہوئی ہے، اگر اس کا خاتمہ نیک عمل پر ہوا ہو تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ بھلائی کو پہنچااور اگر اس کا خاتمہ برائی پر ہوا ہوتو ہمیں اس پر خوف ہوتا ہے۔
جنہیں دیکھ کرربّ مسکرائے:
(5338)...حضرتِ سیِّدُناابوعبیدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہروایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّدوشخصوں سے بہت خوش ہوتا ہے ایک وہ شخص جو اپنے ساتھیوں کی مثل گھوڑے پرسوار ہو اورجب دشمن سےسامنا ہو تو سب بھاگ جائیں مگر یہ شخص ثابت قدم رہے، اگر قتل کر دیا جائے تو شہید ہےاور دوسرا وہ شخص جو رات کو اس طرح اٹھے کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہوپھر وہ وضو کرے اورحضورنبی پاک،صاحِب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پڑھے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد بیان کرے اور تلاوت ِقرآن میں مشغول ہو جائے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس پرخوش ہوتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: میرےاِس بندے کو دیکھو جسے میرے سوا کوئی نہیں دیکھ رہا۔
نمرود کی موت:
(5339)...حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: سرکشوں میں سے ایک سرکش(یعنی نمرود) نے کہا: میں سرکشی سے باز نہیں آؤں گا دیکھتا ہوں کہ آسمانوں میں کون ہے(مجھے روکنے والا)؟ چنانچہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی کمزور ترین مخلوق مچھر کو اس پر مسلّط فرمادیا،وہ مچھر اس کی ناک کے راستے دماغ میں داخل ہوا تو اسے موت آنے لگی، چنانچہ اس نے کہا :میرے سر پر مارو۔ لوگوں نے اس کے سر پر اتنا مارا جس سے اس کا سر