Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
256 - 475
 میرے سرتاج، صاحب معراجصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:  تم نے اس سے قبول کیوں نہ کیا اور اس سے بہتر بدلہ کیوں نہ دیا؟ میرا خیال ہے تم نے اسے حقیر سمجھا ہے۔اے عائشہ! عاجزی اختیار کرو کیونکہ اللہ   عَزَّ  وَجَلَّعاجزی کرنے والوں کو پسند اور تکبر کرنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔(1)

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرتِ سیِّدُنا ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود
رَحْمَۃُ  اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	ذکر وشکر میں مشغول رہنے والے حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی تابعی بزرگ ہیں۔
ذِکْرُاللہکی فضیلت:
(5334)…حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب تک بندے کا دل ذکرکرتا رہے وہ نماز میں ہےاگرچہ وہ بازار میں ہو اوراگر اس کے ساتھ ہونٹ بھی حرکت کر رہے ہوں تو یہ عظیم تر ہے۔
(5335)...حضرتِ سیِّدُناابو عبیدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص راستے میں بیٹھا ہو اور اس کے پاس دیناروں سے بھرا تھیلا ہو اور وہ ہر گزرنے والے شخص کو دینار دے  جبکہ دوسری طرف ایک شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّکےلیے نماز  میں مصروف ہوتو اس کا اجر دیناربانٹنےوالے سے زیادہ ہے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّپر قسم کھانا:
(5336)...حضرتِ سیِّدُناابوعبیدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں:  ایک شخص گزر رہاتھا کہ  سجدے میں گرے ایک آدمی کی گردن پر اس کا پاؤں آگیااُس نے کہا: تو نے سجدے کی حالت میں میری گردن کو روندھا ہے، خدا کی قسم! اللہ عَزَّ  وَجَلَّتیری کبھی مغفرت نہیں فرمائےگا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: تو مجھ پر قسم کھاتا  ہے، سن لےمیں نےاس کی مغفرت کر دی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کنزالعمال،کتاب الخلا فة مع الامارة من قسم الافعال،الباب الثانی،۵/ ۳۲۷،حدیث:۱۴۴۷۸،بتغیر قلیل