آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اللہکی قسم!یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں ربّ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمْ یَلْبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمْنُ وَہُمْ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۸۲﴾٪ (پ۷،الانعام:۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنےایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔
پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی طرف بڑھو۔ چنانچہ ہم اسے اٹھا کر پانی کے پاس لے گئے غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن پہنایا اوراٹھا کر قبر کی طرف چل پڑے،آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے اور قبر کے کنارے بیٹھ کر ارشاد فرمایا: بغلی قبر بنانا سیدھی نہ بنانا کہ لحد( بغلی قبر) ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر ہمارےغیروں کے لیے(1)۔(2)
(5332)…حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: آقائے دوجہاں، مالکِ کون و مکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی بندہ دنیا میں جب ایک درجہ بلندی چاہتا ہے پھر بلند بھی ہو جاتا ہے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّآخرت میں اس کا ایک درجہ کم کر دیتا ہے جو اس دنیاوی درجہ سے بڑا ہوتا ہے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وَ لَلۡاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکْبَرُ تَفْضِیۡلًا ﴿۲۱﴾ (پ۱۵،بنی اسرائیل:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ۔(3)
عاجزی اختیار کرو:
(5333)…اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ میں ایک مسکین عورت کے پاس گئی تو اس نے ایک چیز مجھے تحفہ دینے کو بڑھائی، میں نے بطور رحمدلی اس سے لینا پسند نہ کیا،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اس پر تفصیلی حاشیہ روایت:5330 کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
2…مسنداحمد، مسند الکوفیین،حدیث جریر بن عبد اللّٰہ،۷/ ۵۹،حدیث:۱۹۱۹۷
3…معجم کبیر، ۶/ ۲۳۹،حدیث:۶۱۰۱