اور صندوقی ہمارے غیروں کے لیے ہے(1)۔(2)
مرتے ہی جنتی پھل کھائے:
(5331)…حضرتِ سیِّدُنا جریر بن عبداللہبَجَلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: ہم حضور نبی پاک،صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نکلے جب مدینہ سے باہر آئے تو دیکھا کہ ایک سوار ہماری جانب آرہا ہےآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:یہ تمہاری ہی طرف آرہا ہے۔ جب وہ ہمارے قریب آیا تو اس نے سلام کیا ہم نے جواب دیا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: کہاں سے آرہے ہو؟ اس نے کہا: اپنے گھر والوں، اپنی اولاد اور اپنے کنبہ کے پاس سے۔ارشاد فرمایا: کس لیےآئے ہو؟اس نے عرض کی:آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے۔ ارشاد فرمایا: تمہارے سامنے ہوں۔ اس نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ایمان کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہکے رسول ہیں۔اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور کعبہ کا حج کرو۔ اس نے عرض کی:یقیناً میں نے قبول کیا۔ پھر وہ شخص اپنے اونٹ پر واپس مڑا تو اونٹ کا پاؤں کانٹےدار جھاڑی میں پھنس گیا جس سے اونٹ گر پڑا وہ شخص بھی اپنے سر کے بل گرا اور وہیں انتقال کر گیا،آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اس شخص کی ساری ذمہ داری مجھ پر ہے۔اتنے میں حضرت عَمَّار بن یاسر اورحضرت حُذیفہ بن یَمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااس کی طرف جھکےاسے سیدھا کیااورعرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ شخص تو انتقال کر گیا۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے اعراض فرمایا: پھر ان دونوں صحابہ سے ارشاد فرمایا: کیا تم نے اس شخص سے مجھےاعراض کرتے نہیں دیکھا(اس کی وجہ یہ تھی) کہ میں نے دیکھا کہ دو فرشتے اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہے ہیں پس میں جان گیاکہ یہ بھوکا بھی تھا پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یعنی مسلمانوں کے لیے بغلی قبر بہتر ہے جیسے اہل کتاب وغیرہ صندوقی کو بہتر جانتے ہیں یہ کلام بیانِ استحباب کے لیے ہے نہ کہ بیانِ وجوب کے لیے یا یہ مطلب ہے کہ ہماری قبر اِنْ شَاءَ اﷲ لحدہوگی ہمارے علاوہ بعض امتیوں کی قبریں صندوقی بھی ہوں گی یا ہم گروہ انبیاء کی قبریں لحد ہوئیں،امتوں کے لیے شق بھی ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہم مدینہ والوں کی قبر یں لحد ہونی چاہییں کیونکہ یہاں کی مٹی پختہ ہے دوسرے لوگوں کے لیے جہاں کی مٹی نرم ہو ٹھہرتی نہ ہو شق مناسب ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/۴۹۰)
2…سنن ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی استحباب اللحد،۲/ ۲۴۴،حدیث:۱۵۵۵