Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
253 - 475
 رب! دنیا فنا ہو چکی اب میں کہاں سے ان کو دوں؟ربّ تعالیٰ ملائکہ سے فرمائے گا: اس کے نیک اعمال میں سے ہر انسان کو اس کے حق کی مقدار دے دو۔ اگر بندہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا دوست تھا تو اس کی نیکیوں سے رائی کے دانے برابر  بچی ہوئی نیکی کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمام نیکیوں سے دگنا کر دے گا اور وہ بندہ اس کے سبب داخل جنت ہو جائے گا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنۡ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾ (پ۵،النساء:۴۰) 
ترجمۂ کنز الایمان: اللہایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا ہے اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔
	اور اگر بندہ گناہ گار ہوا تو فرشتےعرض کریں گے:یَااللہعَزَّ  وَجَلَّ! اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور طلبگار ابھی بھی باقی ہیں۔ ربّ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا: لوگوں کی برائیاں اس کی برائیوں میں ملا دو اور اسے مارتے ہوئے جہنم میں پھینک دو۔
باپ کا بیٹے سے مطالبہ:
(5329)…حضرتِ سیِّدُنا زاذان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکہتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس گیا تو وہاں مجھ سے پہلے ہی ریشم کے بیوپاری بیٹھے ہوئے تھے میں نے کہا: آپ نے لوگوں کو قریب اور مجھے دور کر دیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: قریب ہو جاؤ پھر خود ہی مجھے اپنے بچھونے پر قریب کر کے بٹھا دیا اور فرمایا: میں نے حضور نبی پاک، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا ہے:’’بے شک والدین کے لیے بیٹے پر قرض (حق)ہے پس جب قیامت کا دن آئے گا تو وہ اپنےبیٹے سے چمٹ جائیں گے وہ کہے گا: میں تو آپ کا بیٹا ہوں۔ پس وہ تمنا کریں گے کہ کاش! اس سے زیادہ اولاد ہوتی۔‘‘(1)
(5330)… حضرتِ سیِّدُنا جریر بن عبداللہبجلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت، شفیْعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا یعنی: بغلی قبر ہمارے لیے ہے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۱۰/ ۲۱۹،حدیث:۱۰۵۲۶