Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
248 - 475
کے عامل زیاد بن حُدَیْر ہم سے عشر وصول کرتے ہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں تمہاری مدد کرتا ہوں چنانچہ آپ نے میری طرف حکم لکھ بھیجا کہ سال میں صرف ایک مرتبہ ان سے عشر لیا کرو۔
سیِّدُنا زیاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مرویات
	حضرتِ سیِّدُنا زیاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی روایات کی تعداد کم ہے آپ نےامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلی اور حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے احادیث لی ہیں۔
معاہدے کی خاطر جنگ:
(5311)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نےفرمایا:اگر میں زندہ رہا تو بنو تغلب کے عیسائیوں سے زبردست جنگ کروں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لوں گا کیونکہ میں نے ان کے اور حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مابین یہ معاہدہ لکھا تھا کہ وہ اپنی اولاد کو عیسائی نہیں بنائیں گے۔
(5312)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: رات کو باتیں کرنا صرف مسافر اور نمازی کے لیے جائز ہے(1)۔(2)

٭…٭…٭…٭…٭…٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعوتِ اسلامی کے سُنَتَّوں کی تربیت کے مَدَنی قافلوں میں سفر اور روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پُر کرکے ہرمَدَنی(اسلامی)ماہ کے ابتدائی 10دن کے اندراندر اپنے یہاں کے (دعوت اسلامی کے)ذِمَّہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے!اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کی برکت سے پابندے سُنَّت بننے،گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظتکے لئےکڑہنے کا ذہن بنے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بعد نمازِ عشا باتیں کرنے کی تین صورتیں ہیں۔    اول: علمی گفتگو کسی سے مسئلہ پوچھنا یااس کا جواب دینا یا اس کی تحقیق و تفتیش کرنا اس قسم کی گفتگو سونے سے افضل ہے۔ دوم: جھوٹے قصے کہانی کہنا مسخرہ پن اور ہنسی مذاق کی باتیں کرنا یہ مکروہ ہے۔سوم: مُوانَست کی بات چیت کرنا جیسے میاں بیوی میں یا مہمان سے اس کے اُنْس کے لیے کلام کرنا یہ جائز ہے اس قسم کی باتیں کرے تو آخر میں ذکرِ الٰہی میں مشغول ہوجائے اور تسبیح و استغفار پر کلام کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ (بہار شریعت:حصہ۱۶، ۳/۴۳۶)
2…ترمذی،کتاب الصلٰوة،باب ما جاء من الرخصة...الخ،۱/ ۲۱۵،حدیث:۱۶۹