وِزْرَکَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡۤ اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ ۙ﴿۳﴾ (پ۳۰،اَلَمْ نشرح:۱تا۳)
کیااور تم پر سے تمہارا وہ بوجھ اتار لیا جس نے تمہاری پیٹھ توڑی تھی۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:اے اُمِّ زیاد کے لڑکے!رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیٹھ جھکی تھی، اتنا کہا اور ایسے رونے لگے جیسے چھوٹے بچے روتے ہیں۔
سیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہ کی تربیت:
(5309)…حضرتِ سیِّدُنا زیاد بن حُدَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس گیا اس وقت میں نے سبز رنگ کی شال اوڑھ رکھی تھی اور میری مونچھیں بھی بڑھی ہوئی تھیں میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور سلام کا جواب نہ دیا، میں وہاں سے پلٹا اور ان کے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا عاصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آگیااور کہا:امیر المؤمنین کو کوئی بات ناگوارگزری ہے۔حضرتِ سیِّدُناعاصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا: میں اس معاملے میں آپ کی مدد کروں گا۔چنانچہ وہ اپنےوالدامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےملےاورعرض کی:یاامیر المؤمنین! آپ کے بھائی زیاد بن حُدَیْر نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا؟ امیر المؤمنین نے فرمایا: (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے دیکھا کہ ان پر سبزشال ہے اور مونچھیں بھی بڑھی ہوئی ہیں۔حضرتِ سیِّدُناعاصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے واپس آکر مجھے تمام بات بتائی تو میں وہاں سے چلا آیا میرے پاس ایک اور شال تھی میں نے اس کے دو ٹکڑے کر کے ایک کو تہبند اور ایک کو چادر بنایا اوراسے پہن کر دوبارہ حاضر خدمت ہوا اور امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سلام کیا تو انہوں نے: وَعَلَیْکَ السَّلَام کہا اورفرمایا:اے زیاد! یہ تمہارےپہلے والے حلیے سےزیادہ اچھا ہے۔
امیرالمؤمنین کی مدد:
(5310)…حضرتِ سیِّدُنا زیادرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے اَلْماص کا عامل مقرر کیا تو بنو تَغْلِب جب بھی آتے جاتے میں ان سے عُشر وصول کرتا ، ان میں سے ایک شخص امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس گیا اورعرض کی:یاامیرالمؤمنین!جب بھی ہم آتے جاتے ہیں آپ