بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: تم جانتے ہو اسلام کو کیا چیز گراتی ہے؟ پھر فرمایا: عالِم کی لغزش، منافق کا قرآن پاک سے جھگڑنا اور گمراہوں کا فیصلہ کرنا۔
کیا تم نے تیاری کر لی؟
(5304)…حضرتِ سیِّدُنا زیاد بن حُدَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایا کرتے: کیا تم نے تیاری کر لی؟ایک دن ایک شخص نے سنا تو کہا: اس کا مطلب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کی تیاری کر لو۔
(5305)…حضرتِ سیِّدُنا زیاد بن حُدَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جو لوگ تقوٰی اختیار نہیں کرتے وہ دین کی سمجھ بوجھ نہیں رکھ سکتے۔
(5306)…حضرتِ سیِّدُنا زیاد بن حُدَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں لوہے کی طرح مضبوط دین میں ہوں اور اس میں میرے لیے صرف فائدے کی چیزیں ہوں، نہ میں لوگوں سے بات کروں اور نہ لوگ مجھ سے بات کریں یہاں تک کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے جا ملوں۔
شہادت کا سوال کرو:
(5307)…حضرتِ سیِّدُناحَفْص بن حُمید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنازیاد بن حُدَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا: اپنے کچھ بال کاٹ لو کیونکہ ان میں فتنہ ہے اور ہمیں فرمایا کرتے تھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے شہادت کا سوال کرو۔ ان سے کہا جاتا: شہادت تو ایک خزانہ ہے۔ تو فرماتے: خازن(یعنی خزانے کے مالک)سے مانگو کیونکہ وہ نہ مانگنے والے سے ناراض ہوتا ہے۔
حضرتِ سیِّدُناحفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزید بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنازیاد بن حُدَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کہا: میں فلاں فلاں سفر پر جا رہا ہوں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: راستے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتے رہنا۔
(5308)…حضرتِ سیِّدُناحفص بن حمید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا زیاد بن حُدَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا: مجھے کچھ قرآن سناؤ۔ چنانچہ میں نے یہ آیات تلاوت کیں:
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۙ﴿۱﴾وَ وَضَعْنَا عَنۡکَ ترجمۂ کنز الایمان: کیا ہم نےتمہارے لیے سینہ کشادہ نہ