پر بھروسا نہ کریں کیونکہ بروز ِقیامت میں جس بھی بندےکا حساب لوں گا اور اسے عذاب دینا چاہوں گا تو ضرور عذاب دوں گااور میری نافرمانی کرنے والے اپنے امتیوں سے کہہ دو کہ وہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں بے شک میں بہت بڑا گناہ بھی بخشش دوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں اور کوئی بھی بستی والا، شہر والا، زمین والا اور کوئی بھی خاص وعام مرد وعورت میری پسند کو محبوب رکھے تو میں اس کی پسند اسے عطا کردیتا ہوں اورکوئی بھی شہر والا، زمین والا اور کوئی بھی خاص وعام مرد و عورت میری پسند کو محبوب رکھے تو میں اس کی پسند اسے عطا کردوں پھر وہ میری پسند کو چھوڑ کر میری ناپسندیدہ چیز کی طرف پھر جائے تو میں بھی اسے اس کی پسند سے اس کی ناپسند کی طرف پھیر دیتا ہوں اور کوئی بھی بستی والا، شہر والا، زمین والا اور کوئی بھی خاص وعام مرد و عورت میرے ناپسندیدہ طریقے پر ہو تو میں اسے اس کی ناپسند کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ میری ناپسندسے میری پسند کی طرف پھر جائے تو میں بھی اسے اس کی ناپسند سے اس کی پسند کی طرف پھیر دیتا ہوں، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں جس نے جادو کیا یا کروایا، کَہانت کا عمل کیا یا کروایا(یعنی اپنی اٹکل سے غیب کی خبر بتائی)یاجس نے بدشگونی لی یا بُری فال نکلوائی بے شک میں ہی اپنی مخلوق کے لیے ہوں اورتمام مخلوق میری ہی ہے۔(1)
(5299)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: ہمیں نماز میں قریب قریب قدم رکھنے(یعنی کندھے سے کندھا ملا کر بغیر فاصلہ کے کھڑے ہونے)کا حکم دیا گیا ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرکارصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے شہزادے اور شہزادیاں
٭…شہزادے:پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تین شہزادے تھے جن کے اسمائے مُبارَکہ یہ ہیں:
(۱)…حضرت سیِّدُنا قاسِم(۲)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم(۳)…طَیِّب و طاہِرحضرت سیِّدُنا عبدُاللہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان۔
٭…شہزادیاں:مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چار شہزادیاں تھیں جن کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں:
(۱)…حضرت سیِّدَتُنازَیْنَب(۲)…حضرت سیِّدَتُنارُقَـیَّہ(۳)…حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ کُلْثوم(۴)…حضرت سیِّدَتُنا فاطِمَةُ الزَّہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ۔ (الموھب اللدنیة،الفصل الثانی فی ذکراولادالکرام،۴/ ۳۱۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم اوسط،۳/ ۳۶۱ ،حدیث:۴۸۴۴