Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
240 - 475
 حذیفہ کیسے آنا ہوا؟ میں نے اپنا مدعا عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّتمہاری اور تمہاری ماں کی بخشش فرمائے۔ اے حذیفہ! تم نے مجھ سے گفتگو کرنے والے کو دیکھا؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں۔ارشادفرمایا: وہ ایک فرشتہ تھا جو آج سےپہلے کبھی زمین پر نہیں اترا اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے میری ملاقات کی اجازت لی اور مجھے خوشخبری دی کہ بے شک حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں اور فاطمہ تمام جنتی عورتوں کی سردار ہے۔(1)
لباس شہرت کی نحوست:
(5285)…حضرتِ سیِّدُناابوذرغفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت، شفیْعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو لباسِ شہرت پہنتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس سے اپنی نظر رحمت پھیر لیتا ہے اور اسے لوگوں کی نظروں میں گرا دیتا ہے۔(2)
توبہ کا دروازہ کہاں ہے؟
(5286)…حضرتِ سیِّدُناصفوان بن عسال مرادیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکہتے ہیں: میں نےحضور جانِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے جانب مغرب توبہ کا ایک دروازہ کھول رکھا ہے جس کی چوڑائی 70 سال کی مسافت ہے وہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔(3)
(5287)…حضرتِ سیِّدُناصفوان بن عسال مرادیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکہتے ہیں: ہم ایک سفر میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے اتنے میں ایک شخص آیا، جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس پر نظر پڑی تو ارشاد فرمایا: خاندان کا بُرا بھائی اور بُرا شخص۔ جب وہ قریب ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اس کے قریب ہو گئے پھر وہ اٹھا اور چلا گیا۔ عرض کی گئی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جب آپ نے اس کو دیکھا تو ارشاد فرمایا: خاندان کا بُرا بھائی اور بُرا شخص، پھر آپ اس کے قریب بھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الكبری  للنسائی،کتاب المناقب،باب حذیفة بن یمان، ۵/ ۸۰،حدیث:۸۲۹۸ ،بتغیر قلیل
2…ابن ماجہ،کتاب اللباس،باب من لبس شھرة من الثیاب،۴/ ۱۶۳،حدیث:۳۶۰۸، بتغیر قلیل
3…کنز العمال،کتاب التوبة من قسم الاقوال، ۴/ ۸۸، حدیث:۱۰۱۹۳