Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
236 - 475
 شب ہے اس کی پہچان اس نشانی کے ذریعے ہوئی جو حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں بتائی تھی اور وہ یہ ہے کہ اس کی صبح سورج ایسا صاف طلوع ہوگا کہ اس کی کوئی شعاع (کرن) نہیں ہو گی۔(1)
پیٹ کوقبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے:
(5272)…حضرتِ سیِّدُناابی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نبی رحمت، شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:بےشکاللہ عَزَّ  وَجَلَّنےمجھےحکم دیاہےکہ میں تمہیں قرآن سناؤ ں۔ پھرآپ نے: لَمْ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ ( یعنی پارہ30 کی سورۂ بینہ)تلاوت کی پھرفرمایا:بے شک اصل دیناللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک دین حنیف ہی ہے، نہ کہ شرک، یہودیت اور نہ ہی نصرانیت اور جو اچھا عمل کرے تو اس کا انکار مت کرو۔ مزید فرمایا: اگر آدمی کے لیے سونے کی ایک وادی ہو تو وہ ضرور دوسری بھی تلاش کرے گا اور اگر اسے دوسری بھی دے دی جائے تو تیسری کی کوشش کرے گا اور اِبْنِ آدم کا پیٹ تو قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے۔(2)
انتظارِنماز عبادت ہے:
(5273)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ ایک رات حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نمازِ عشا میں تاخیرفرمائی پھر مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ نماز کا انتظار کر رہے ہیں ارشاد فرمایا:سوائے تمہارے تمام اديان میں سے کوئی گروہ بھی اس وقتاللہ کی عبادت نہیں کر رہا۔اس وقت یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی: لَیۡسُوۡا سَوَآءًؕ مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوۡنَ اٰیٰتِ اللہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَہُمْ یَسْجُدُوۡنَ﴿۱۱۳﴾    (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۱۳)	
ترجمۂ کنز الایمان:سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب الصوم،باب،ماجاء فی لیلة القدر،۲/ ۲۰۹،حدیث:۷۹۳،دون”صافیة“
	مسنداحمد،مسند عبد اللّٰہ بن مسعود،۲/ ۷۲،حدیث:۳۷۵۷، عن عبد اللّٰہ بن مسعود
2…ترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب معاذ…الخ،۵/ ۴۳۶،حدیث:۳۸۱۸
3…سنن الکبری للنسائی،باب”لیسوا سواء من اھل الکتاب“،۶/ ۳۱۳،حدیث:۱۱۰۷۳،بتغیر قلیل