(5258)…حضرتِ سیِّدُناعاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بہترین قاری نہیں دیکھا۔
(5259)…حضرتِ سیِّدُنا عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجیسا کوئی نہیں دیکھا۔
(5260)…حضرتِ سیِّدُناابو بکر بن عیاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسب لوگوں سے زیادہ عربی دان تھےاورحضرتِ سیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عربی کے متعلق ان سے پوچھا کرتے تھے۔
پوری رات عبادت:
(5261)… حضرتِ سیِّدُناعاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو پوری شب قدر عبادت میں گزار دیتےاورحضرتِ سیِّدُنازر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی انہی میں سے ایک ہیں۔
(5262)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی اور حضرتِ سیِّدُناسوید کلبیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَابیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عبد الملک بن مروان کو ایک نصیحت آموز مکتوب لکھا اس کے آخر میں لکھا تھا:اے امیر المؤمنین! آپ کی ظاہری تندرستی آپ کو لمبی عمر کے لالچ میں مبتلا نہ کر دے، آپ اپنے بارےمیں بہتر جانتے ہیں اور اس بات کو یاد کیجئے جو پہلے والوں نے کہی:
اِذَا الرِّجَالُ وَلَدَتْ اَوْلَادُهَا وَبَلِيَتْ مِنْ كِبْرٍ اَجْسَادُهَا
وَجَعَلَتْ اَسْقَامُهَا تَعْتَادُهَا تِلْكَ زُرُوْعٌ قَدْ دَنَا حَصَادُهَا
ترجمہ:جب لوگوں کی اولاد پیدا ہو جائے اور ان کے جسم بڑھاپے کے سبب خستہ حال ہو جائیں اور بیماریاں ان کی عادت بن جائیں تو وہ ایسی کھیتیاں ہیں جن کی کٹائی کا وقت آپہنچا ہے۔
جب خلیفہ عبد الملک نے یہ مکتوب پڑھا تو رونے لگاحتّٰی کہ اس کے کپڑے کا پہلو تر ہو گیاپھر کہنے لگا: زر نے سچ کہا اگر وہ اس بات کو نہ لکھتے تو ہمارے لیے زیادہ آسانی ہوتی۔