ہوں گی حتّٰی کہ وہ بلند ہو جائےگا۔ اس کے راوی حضرتِ سیِّدُنا عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ستائیسویں شب گوشہ نشین ہو جاتے اور کچھ کھانا وغیرہ نہ کھاتے حتّٰی کہ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو چھت پر چڑھ کر طلوع ہوتے سورج کو دیکھتے تو اس کی کوئی کرن (شعاع) نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ پورا سفید ہو کر بلند ہو جاتا۔
(5254)…حضرتِ سیِّدُنایزید بن ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانکہتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا: اگر مجھے تمہارے بادشاہ کا خوف نہ ہوتا تو ضرور میں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتا پھر تین مرتبہ پکار کر کہتا: سنو! شب قدر رمضان کے آخری سات دنوں میں ہےتین دن اس سے پہلے ہیں اور تین بعد میں، مجھے اس نے خبر دی ہے جس نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا اور اسے جس نے خبر دی ہے اس نے بھی اس سے جھوٹ نہیں کہا۔ حضرتِ سیِّدُناابو داودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں: یعنی حضرتِ سیِّدُناابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بات کو بیان کیا ہے(اور دونوں سچے ہیں)۔
فرشتے پر بچھا دیتے ہیں:
(5255)…حضرتِ سیِّدُنازر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا صفوان بن عسال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا: علم کی تلاش میں آیا ہوں۔ فرمایا: جو بھی شخص اپنے گھر سے علم کی تلاش میں نکلتا ہے فرشتے اس کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔
(5256)…حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: موزوں پر مسح کا مسئلہ میرے دل میں کھٹک رہا تھا لہٰذا میں صبح سویرے حضرتِ سیِّدُنا صَفْوان بن عَسَّال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس گیا وہ اس وقت اپنےگھر میں تھے۔فرمانے لگے: زر! کیسے آئے؟ علم کی طلب میں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ فرمایا: سنو! جو بھی شخص اپنے گھر سے علم کی تلاش میں نکلتا ہے تو فرشتے اس کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔
120 سال عمر:
(5257)…حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھا اس وقت آپ کی عمر 120برس تھی اور بڑھاپے کی وجہ سے دونوں جبڑے کپکپا رہے تھے۔