ہوا دیکھاتوسامنےحضرتِ سیِّدُنااُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہموجودہیں،میں ان کے پاس گیااور کہا: اے ابو مُنذِر! اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ پر رحم فرمائے، میرے لیےنرمی فرمائیے۔کیونکہ آپ کے مزاج میں سختی تھی۔ چنانچہ میں نے کہا: مجھے لیلۃ القدر کے بارے میں بتائیے؟ آپ نے فرمایا: وہ ستائیسویں شب ہے۔ میں نے کہا: اے ابو منذر! اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ پر رحم فرمائے!آپ کو یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ فرمایا: اس نشانی سے جو حضور نبی پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں بتائی ہے۔
شبِ قدر کی علامت:
(5253)…حضرتِ سیِّدُنا عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہروایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنازر بن حبیشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں چلا حتّٰی کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعثمان بن عَفَّانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچ گیا اور میرا ارادہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے انصار ومہاجرین صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ملاقات کا تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا عاصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتےہیں: مجھے حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بتایا کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا اُبَیْ بن کَعب اور حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی صحبت اختیار کی، حضرتِ سیِّدُناابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا مزاج سخت تھا لہٰذا میں نےان سے عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ پر رحم فرمائے! میرے لیے نرمی فرمائیے کیونکہ میں آپ سے خوب مستفیض ہونا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: تم چاہتے ہو کہ قرآن پاک کی ہر آیت کے متعلق مجھ سے پوچھو۔میں نے عرض کی:اے ابو منذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے کیونکہ حضرتِ سیِّدُناا بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتو فرماتے ہیں کہ جو پورا سال قِیامُ اللَّیْل کرے گا وہ شب قدر کو پائے گا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: خدا کی قسم! ابن مسعود جانتے ہیں کہ شب قدر رمضان میں ہے لیکن انہوں نے اس خوف سے نہیں بتایا کہ کہیں لوگ سست وکاہل نہ ہو جائیں۔ اس ربّ عَزَّ وَجَلَّکی قسم جس نےمحمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کتاب نازل فرمائی! شب قدر رمضان ہی میں ہے اور وہ ستائیسویں شب ہے۔میں نے عرض کی: اے ابو منذر! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ فرمایا: اس نشانی کے ذریعے جوحضور سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں بتائی تو ہم نے اسے یاد کر لیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! وہ وہی ہے۔ میں نے عرض کی: وہ نشانی کیا ہے؟ فرمایا: اس دن سورج طلوع ہو گا لیکن طلوع ہوتے وقت اس کی کرنیں نہیں