Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
228 - 475
 اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک شخص نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی:
وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾ (پ۶،المائدة:۴۴)	
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو اللہ کے اتارے پر حُکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں۔
	تو کسی نے کہا: یہ تو بنی اسرائیل کے حق میں نازل ہوئی ہے۔آپ نے فرمایا: ہاں!  بنی اسرائیل تمہارے بھائی ہی تو ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے لیے میٹھاہو اور ان کے لئے کڑوا، اس کی قسم جس کے قبضہ میں میرے جان ہے! تم ان کے ہر ہر طریقے کو اس طرح اپناؤ گے جیسے ایک تیر دوسرے تیر کے برابر ہوتا ہے۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرت سیِّدُنا کُرْدُوْس بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی
	حضرتِ سیِّدُنا کردوس بن ہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی یا پھر ابن عَیَّاش ثعلبی یاابن عمرو (ان کے بارے میں اختلاف ہے کیونکہ کردوس نام کے اور بھی تھے بہرحال) یہ قصہ گو مشہور تھے اور تابعین کرام کو قصے سنایا کرتے تھے۔
جنت عمل سے ملتی ہے:
(5245)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن ادریسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میرے چچا نے حضرتِ سیِّدُنا کردوسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: کردوس ہمیں حجاج کے زمانے میں قصے سنایا کرتے تھے ایک مرتبہ کہنے لگے: جنت عمل سے ملتی ہے اپنی رغبت میں ڈر وخوف بھی ملا لو، نیک اعمال پر ہمیشگی اختیار کرو اور سلامت دلوں اور نیک اعمال کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرو اور اکثر فرمایاکرتے تھے: جسے ڈر ہوتا ہے  وہ رات کے ابتدائی حصہ میں سفر شروع کرتا ہے (اور جو ایسا کرتا ہے وہ منزل پر پہنچ  جاتا ہے)۔
(5246)…حضرتِ سیِّدُناکردوسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:میں نے انجیل میں لکھا ہوا پایا کہ بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّبندے کو اس کی ناپسندیدہ چیز میں  مبتلا کرتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ دیکھے کہ بندہ اس کے لئے کیسے گڑگڑاتا ہے۔
(5247)…حضرتِ سیِّدُنا کردوس بن عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں: اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے جو نازل فرمایا: اس