مِّنْہُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾ (پ۲۷،الحدید:۲۷)
نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے ایمان والوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں بہتیرے فاسق ہیں۔
پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جومجھ پر ایمان لایا میری تصدیق کی اور میری پیروی کی تو اس نے اسے نباہنے کا حق ادا کر دیا اور جس نے میری پیروی نہ کی تو وہی لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔(1)
موزوں پر مسح:
(5237)…حضرتِ سیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے موزوں اور عمامہ پر مسح فرمایا(2)۔(3)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرت سیِّدُنا ہَمَّام بن حارث نَخَعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی
کثرت سے عبادت اور شب بیداری سے لذت حاصل کرنے والے حضرتِ سیِّدُنا حارث بن ہمام نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بھی تابعی بزرگ ہیں۔
نوافل کی کثرت:
(5238)…حضرتِ سیِّدُناابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُناہمام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ صبح کو بالوں میں کنگھا کئے ہوئے نکلے تو ایک شخص نے کہا: حضرت کے بال بتارہے ہیں کہ یہ ساری رات نہیں سوئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کثرت سے نماز پڑھنے والے تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۱۰/ ۲۲۰،حدیث:۱۰۵۳۱،بتغیر قلیل
2…خیال رہے کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس موقعہ پر عمامہ شریف پکڑلیا تھاتاکہ گر نہ جائے، دیکھنے والے سمجھے کہ آپ عمامہ کا بھی مسح کر رہے ہیں اس لئے ایسی روایت کر دی عمامہ پر مسح کرنا قرآن شریف کے خلاف ہے (اللہ) فرماتا ہے: وَامْسَحُوۡا بِرُءُ وۡسِکُمْ (ترجمۂ کنز الایمان:اور سروں کا مسح کرو۔پ۶، المآئدہ:۶)،نیز چمڑے اور موٹے سوتی موزوں پر مسح جائز ہے جبکہ بغیر باندھے پنڈلی پر ٹھہرے رہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۲۸۶ ملتقطاً)
3…ترمذی،ابواب الطھارة،باب ما جاء فی المسح علی الجوربین، ۱/ ۱۵۷،حدیث:۱۰۱