ہلاکت سے بچنے کا راستہ:
(5236)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: آقائے دوجہاں، رحمت عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اے عبداللہ بن مسعود! میں نے عرض کی: لَبَّیْکْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!پھر ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! میں نے تین مرتبہ عرض کی: لَبَّیْکْ۔ ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو اسلام کی کون سی گرہ زیادہ مضبوط ہے؟ میں نے عرض کی: اللہاور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: (اللہ عَزَّ وَجَلَّ) کے لیے دوستی کرنا،اسی کے لئے محبت کرنا اور اسی کے لئےدشمنی رکھنا۔ پھر ارشاد فرمایا:اے عبداللہ! میں نے تین مرتبہ عرض کی: لَبَّیْکْ۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو لوگوں میں افضل کون ہیں؟ میں نے عرض کی: اللہاور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: لوگوں میں افضل وہ ہیں جن کا عمل افضل ہو جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں۔ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! میں نے تین مرتبہ عرض کی: لَبَّیْکْ۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کون سے لوگ زیادہ علم والے ہیں؟ میں نے عرض کی: اللہاور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:سب سے زیادہ علم والا وہ شخص ہے جو لوگوں کے اختلاف کے وقت سب سے زیادہ حق کو پہچاننے والا ہو اگرچہ اس کا عمل تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اگرچہ وہ سرین کے بل گھسٹتا ہو۔ ہم سے پہلے لوگ 72 فرقوں میں بٹ گئے تھے جن میں سے صرف تین سلامت رہے باقی سب ہلاک ہو گئے۔ ( سلامت رہنے والے یہ تین گروہ تھے)وہ لوگ جنہوں نے باشاہوں کا سامنا کیا اور اپنے اور عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکے دین کے لئے ان سے جہاد کیا تو بادشاہوں نے انہیں پکڑ کر قتل کیا اور آروں سے ان کے ٹکڑے کر دیئے۔وہ فرقہ جن میں نہ بادشاہوں کا سامنا کرنے کی طاقت تھی نہ اپنی قوم میں ٹھہرنے کی سکت تھی چنانچہ انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دین اور عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکے دین کی دعوت دی اورمختلف بستیوں میں خانہ بدوشی اور رہبانیت کو اختیا کر لیا۔انہی کے بارے میں ربّعَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابْتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبْنٰہَا عَلَیۡہِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ ۚ وَکَثِیۡرٌ
ترجمۂ کنز الایمان: اور راہب بننا تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہکی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اُسے نہ