چوروں کی سی حیثیت:
(5207)…حضرتِ سیِّدُنا نُسَیر بن ذُعْلُوق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: بستی میں ایک بزرگ تھے جنہیں عروہ کہاجاتاتھاجب وہ نمازِفجرپڑھ لیتےتو” اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ “پڑھنےلگتے،ہم نےان سےاس کےمتعلق پوچھا تو فرمانے لگے: میں نے ایسے لوگوں کی صحبت پائی ہے جن کے سامنے ہماری حیثیت چوروں کی سی تھی۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرت سیِّدُنا زید بن وَہْب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
(5208)…حضرتِ سیِّدُنا زید بن وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ قبرستان گیا تو وہاں ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص آیا اور ایک قبر کو درست کر کے میرے پاس آکر بیٹھ گیا، میں نے پوچھا: یہ قبر والا کون ہے؟ اس نے کہا: میرا بھائی۔ میں نے پوچھا: سگا بھائی؟ کہنے لگا: میرا اسلامی بھائی ہے، گزشتہ رات میں نے اسے خواب میں دیکھا تو کہا: ارے فلاں! اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ کہ تو زندہ ہے۔ وہ بولا: تم نے تو یہ کلمہ کہہ دیا،کاش! میں بھی یہ کہنے پر قادر ہو تاکہ یہ مجھے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سب سے محبوب ہے، کیا تم نے نہ دیکھا کہ جب لوگ مجھے دفن کر رہے تھے تو فلاں شخص کھڑا ہوا اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، کاش میں وہ دو رکعت پڑھنے پر قدرت رکھتا کہ یہ مجھے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہےاس سب سے زیادہ محبوب ہے۔ (وہ دو رکعت پڑھنے والے حضرتِ سیِّدُنا زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہی تھے) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی یہ شان تھی کہ جب پڑاؤ کرتے تو عبادت وریاضت کے لیے اور جب سفر کرتے تو جہاد، حج یا عمرے کے لئے۔
آپ کا تقوٰی:
(5209)…حضرتِ سیِّدُنا زید بن وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں ایک لشکر میں نکلا تو ہمارا گزر ایک مالدار کے باغ پر ہوا، لوگوں نے اپنے جانور اس میں چرنے کے لیے چھوڑ دیئے اور میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر باغ کے دروازے پر بیٹھ گیا، اتنے میں باغ کا مالک میرے پاس آیا اور کہنے لگا: جیسے سب لوگ اپنے جانور چرا