Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
216 - 475
حُبَیْش،حضرتِ سیِّدُناکُرْدوس،حضرتِ سیِّدُناابوعمرو شَیْبانی،حضرتِ سیِّدُنایزیدبن معاویہ نَخَعی اور حضرتِ سیِّدُنا ہَمَّام وغیرہرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  ہم  اختصار کرتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کے متعلق ایک یا دو حکایتیں  ذکر کریں گے کیونکہ یہ سب علْمِ قرآن وعلْمِ احکام میں بہت مشہور ہیں اور ان کی شہرت کے لیے  ان کے متعلق خبر دینےاوران کے اقوال واحوال کو کثرت سے ذکر کرنے کی حاجت نہیں، حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصحاب کے بارے میں جو کچھ کہا سنا گیا ہے ہم اس میں سے کچھ ذکر کریں گے یقیناً یہ حضرات مختلف شہروں کے چشم وچراغ تھے۔
بستی کے چراغ:
(01-5200)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلی اور حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جُبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا: عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصحاب اس بستی کے چراغ ہیں۔
(03-5202)…حضرتِ سیِّدُناامام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصحاب کے علاوہ کسی بھی گروہ کو اتنا بردبار، اتنا فقہی اور اس دنیا کو انتہائی ناپسند کرنے والا نہیں دیکھا،اگر صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننہ ہوتے تو  میں اِن حضرات پرکسی کو فضیلت نہ دیتا۔
(5204)…حضرتِ سیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاپنےاصحاب سےفرمایا:تم میرےدل کی روشنی ہو۔
فتوٰی دینے والے:
(5205)…حضرتِ سیِّدُناابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے یہ چھ اصحاب فتوٰی دیتے اور قرآن پاک پڑھایا کرتے تھے: حضرتِ سیِّدُناعلقمہ بن قیس، حضرتِ سیِّدُنا مسروق، حضرتِ سیِّدُناعبیدہ سلمانی، حضرتِ سیِّدُناعمرو بن شرحبیل اور حضرتِ سیِّدُناحارث بن قیس رَحِمَہُمُ اللہ۔
جدائی پر کلیجہ جل جاتا:
(5206)…حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف اور حضرتِ سیِّدُناابو حصین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَامیں سے ایک نے فرمایا: ہم نے ایسے لوگوں کی صحبت پائی ہے جن کے آگے ہماری حیثیت چوروں کی سی تھی۔ ایک نے فرمایا: اگر تم انہیں دیکھ لیتے تو ان کی جدائی سے تمہارا کلیجہ جل جاتا۔