Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
214 - 475
جنتی غمگین جہنمی خوش:
(5198)… حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اگر جہنمیوں کو کہا جائے کہ تم نے جہنم میں اتنے سال رہنا ہے جتنی دنیا میں کنکریاں ہیں تو وہ ضرور خوش ہو جائیں گے اور اگر جنتیوں سے کہا جائے کہ دنیا میں جتنی کنکریاں ہیں اتنے سال تم جنت میں رہو گے تو ضرور وہ غمگین ہو جائیں گے۔حضرتِ سیِّدُناعبیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ’’لیکن وہ ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہیں گے۔“(1)
حضور کےوصالِ ظاہری کا واقعہ:
(5199)…حضرتِ سیِّدُنا مرہ ہمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ہم اپنی امی جان اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر میں جمع ہوئے،حضور ساقِی کوثر، شافِعِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہماری طرف دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، جب وقت جدائی قریب آگیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں اپنے سفر آخرت کی خبردی اورارشادفرمایا:تمہیں خوش آمدید،اللہتمہیں زندگی دے،اللہتمہیں متفق رکھے، اللہ تمہاری مدد کرے،اللہتمہیں بلندی دے،اللہتمہیں نفع دے،اللہتمہیں توفیق دے،اللہتمہیں قبول کرے،اللہتمہیں ہدایت پر رکھے،اللہتمہیں سلامت رکھے، میں تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور  تمہارے  بارے میں اللہسے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم  اللہکے مقابل اس کے بندوں اور شہروں پر سر کشی نہ کرو کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے اور تمہیں ارشاد فرمایا ہے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۸۳﴾(پ۲۰،القصص:۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۱۰ / ۱۷۹،حدیث:۱۰۳۸۴