Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
213 - 475
 تو قبول کیا جائے اور اگر پیچھے بھی چھوڑدے گا تو اس کے لیے آگ کا توشہ ہو گا، بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّبرائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ بھلائی سے برائی کو مٹاتا ہے یقیناً پلید پلید کو نہیں مٹاتا۔(1)
(95-5194)… حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ نبی اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:فَضْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ عَلٰى صَلَاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَدَقَةِ السِّرِّ عَلٰى صَدَقَةِ الْعَلَانِيَةِ یعنی رات کی نماز کودن کی نماز پر ایسی فضیلت ہے جیسی پوشیدہ صدقے کو علانیہ صدقے پر۔(2)
ربّ تعالیٰ کو خوش کرنے والے:
(5196)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ تاجدار رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ہمارا ربّ عَزَّ  وَجَلَّ دو شخصوں سے بہت خوش ہوتا ہے ایک وہ شخص جو نماز کے لیے اپنے بستر، اپنے پیاروں اور اپنے گھر والوں کے درمیان سے جوش میں کھڑا ہو، اللہ عَزَّ  وَجَلَّاپنے فرشتوں سے فرماتا ہے:میرے اس بندے کو دیکھو کہ میرے انعامات میں رغبت اور میرے عذاب کے خوف کی وجہ سے اپنے بستر،اپنے پیاروں اور گھر والوں کے درمیان سے نماز کے لئے جوش مار کر کھڑا ہوا اور ایک وہ شخص جو اللہکی راہ میں جہاد کرے تو  بھاگ جائے پھر غور کرے کہ میرے لیے اس بھاگنے میں عذاب کتناہے اور لوٹنے میں ثواب کتنا ہے۔چنانچہ وہ لوٹ جائے حتّٰی کہ اس کا خون بہا دیا جائے۔ ربّ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب میں رغبت اور میرے عذاب سے خوف کرتے ہوئے لوٹ گیا حتّٰی کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔(3)
(5197)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لوگ جہنم میں داخل ہوں گے پھر اپنے اعمال کے سبب اس سے نکلیں گے۔ (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسنداحمد،مسند عبداللّٰہ بن مسعود،۲/ ۳۳،حدیث:۳۶۷۲
2…معجم کبیر،۱۰ / ۱۷۹،حدیث:۱۰۳۸۲
3…مسنداحمد،مسند عبداللّٰہ بن مسعود،۲/ ۹۲ ،حدیث:۳۹۴۹،بتغیر قلیل
4…ترمذی،کتاب التفسیر،باب ومن سورة مریم،۵/ ۱۰۸،حدیث:۳۱۷۰