اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میں اس وقت بھیجا گیا ہوں جب قیامت کی ہواچلنا شروع ہو چکی تھی مجھے قیامت پر اتنی ہی سبقت ہے جتنی اس (درمیانی انگلی)کو اس (انگشتِ شہادت)پر ہے۔ (1)
(5170)…حضرتِ سیِّدُناابو جبیرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:نبی آخرِزماں،رحمتِ عالمیاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میں اس وقت بھیجا گیا ہوں جب قیامت کی ہوا چلنا شروع ہوچکی تھی۔(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرتِ سیِّدُنامُرَّہْ بن شَرَاحِیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل
حضرتِ سیِّدُناابو اسماعیل مرہ بن شراحیلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلبھی تابعی بزرگ ہیں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عبادت گزار، پابندِ تہجد،لہو ولعب سے دور اور اپنی زبان کو بیکار باتوں سے بچانے والے تھے۔
کثرتِ عبادت:
(72-5171)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن معین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْننے ایک مرتبہ فرمایا: مرہ بن شراحیل مُرَّۃُ الطَّیِّبْ ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو کثرت عبادت کی وجہ سے مُرَّۃُ الطَّیِّبْ (یعنی نفیس )کہا جاتا تھا۔
(5173)…حضرتِ سیِّدُناحُصَیْنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:ہم ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنامرہ بن شراحیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلسے ملنے گئے تو لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا۔انہوں نے کہا: وہ اپنے اس کمرے میں ہیں جس میں بارہ سال سے عبادت کر رہے ہیں لہٰذا ہم بھی اسی کمرے میں داخل ہو گئے۔
(5174)…حضرتِ سیِّدُناابو بدر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مرہ بن شراحیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلکو کثرت عبادت کی وجہ سے مُرَّۃُ الطَّیِّبْ کہا جاتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب الفتن ،بابب ما جاء فی قول النبی”بعثت ...الخ،۴/ ۹۱ ،حدیث: ۲۲۲۰ ، عن مستور بن شداد الفھری
معجم کبیر ،۲۲/ ۳۹۰ ،حدیث: ۹۷۱
2… ترمذی،کتاب الفتن ،باب ما جاء فی قول النبی”بعثت ...الخ،۴/ ۹۱ ،حدیث: ۲۲۲۰ ، عن مستور بن شداد الفھری
معجم کبیر ،۲۲/ ۳۹۰ ،حدیث: ۹۷۱