Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
206 - 475
حضرتِ سیِّدُناشُبَیْل بن عَوْف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرتِ سیِّدُنا شبیل بن عوفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی تابعی بزرگ ہیں آپ خوف وخشیت رکھنے والے اور نظر وپیٹ کی حفاظت کرنے والے تھے۔
(5165)…حضرتِ سیِّدُنا شبیل بن عَوْف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میرے قدم کبھی بھی طلبِ دنیا کے لیے گرد آلود نہیں  ہوئے۔
(5166)…حضرتِ سیِّدُنا شُبَیْل بن عوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں جنازے کے انتظار یا کسی اور حاجت کے سوا کبھی کسی مجلس میں نہیں بیٹھا۔
(5167)…حضرتِ سیِّدُنا شبیل بن عوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جس نے کسی برائی کو سن کرپھیلا دیا  وہ اسی شخص کی طرح ہے جس نےبرائی کی ابتدا کی۔	
سیِّدُناشبیل بن عوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
	حضرتِ سیِّدُناشبیل بن عوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی کنیت ابو طفیل ہے، آپ نے زمانہ جاہلیت بھی پایا اور قادسیہ کی فتح میں بھی شریک رہے، آپ نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطاب، حضرتِ سیِّدُنازید بن ارقم، حضرتِ سیِّدُنا ابوجبیرہ انصاری اور دیگر صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے احادیث سنی ہیں۔
ایک بڑی خرابی:
(5168)…حضرتِ سیِّدُناشبیل بن عوفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: آج تمہارے موذن کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہمارے آزاد کردہ اور موجودہ غلام۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: یہ بہت بڑی خرابی ہے۔
قیامت قریب ہے:
(5169)…حضرتِ سیِّدُنا شبیل بن عوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مجھے حضرتِ سیِّدُناابو جبیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اور ان کو انصار صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے یہ حدیث بیان کی کہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفے صَلَّی