Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
205 - 475
 تھے(1)اور فرماتے تھے: مجھے یہ بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ اس میں حضرت معضد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا خون لگا ہوا ہے۔
(5163)…حضرتِ سیِّدُنا علقمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی چادر پر حضرتِ سیِّدُنامعضد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا خون لگ گیا تھا، آپ نے اس کو دھویا لیکن اس کا نشان نہ گیا، آپ اسی میں نماز پڑھتے اور فرماتے  : مجھے یہ بہت پسند ہے کیونکہ اس میں حضرتِ سیِّدُنا معضد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدکا خون لگا ہوا ہے۔
خون بہنے کی تمنا:
(5164)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن یزیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:ہم ایک لشکر میں شریک ہوئے جس میں حضرتِ سیِّدُنا علقمہ، حضرتِ سیِّدُنا یزید بن معاویہ نَخَعی، حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن عتبہ اور حضرتِ سیِّدُنا معضد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیبھی موجود تھے، حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عتبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک نیا سفید جبہ زیب تن کیا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: کیا ہی اچھا ہو کہ اس پر خون بہے۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہقلعے کی طرف بڑھے تو ایک پتھر آکر لگا جس نے آپ کو زخمی کر دیا اور اس جبے پر خون بہنے لگا آپ شہید ہو گئے تو ہم نے آپ کو سپرد خاک کر دیا پھر حضرتِ سیِّدُنا معضد عجلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیآگے بڑھے تو آپ کو ایک پتھر آلگا جس سے آپ زخمی ہو گئے اور اپنے زخم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمانے لگے: یہ چھوٹا ہے اور یقیناً اللہ عَزَّ  وَجَلَّ چھوٹے میں برکت عطافرمائےگا۔چنانچہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی شہیدہوگئےتوہم نےآپ کوبھی وہیں سپردخاک کردیا۔
	حضرتِ سیِّدُناحافظ ابونعیم احمدبن عبداللہاصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنامعضد عجلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کوئی مرفوع متصل حدیث نہیں ملی حالانکہ آپ کثرتِ عبادت میں کافی مشہور تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نجاستاگر دلدار یعنی گاڑھی ہو جسے نجاست مَرْئِیَّہ کہتے ہیں (جیسے پاخانہ، گوبر، خون وغیرہ) تودھونے میں گنتی کی کوئی شرط نہیں بلکہ اس کو دور کرنا ضروری ہے، اگر ایک بار دھونے سے دور ہو جائے تو ایک ہی مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا اور اگر چار پانچ مرتبہ دھونے سے دور ہو تو چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے گا ہاں اگر تین مرتبہ سے کم میں نجاست دو ہو جائے تو تین بار پورا کر لینا مستحب ہے۔ اگر نجاست دور ہو گئی مگر اس کا کچھ اثر رنگ یا بو باقی ہے تو اسے بھی زائل کرنا لازم ہے ہاں اگر اس کا اثر بدقت (یعنی دشواری سے)جائے تو اثر دور کرنے کی ضرورت نہیں تین مرتبہ دھو لیا پاک ہو گیا، صابون یا کھٹائی یا گرم پانی (یا کسی قسم کے کیمیکل وغیرہ) سے دھونے کی حاجت نہیں۔(کپڑےپاک کرنےکاطریقہ مع نجاستوں کابیان،ص۲۵)
	مزید تفصیل کے لیے مذکورہ رسالہ کا مطالعہ فرما لیجئے۔