Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
204 - 475
 لپیٹ دیئے گئے اور اعمال  اٹھا لیے گئے۔ پھر اپنے قدموں  پر سر جھکائے روتے رہتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی  اور واپس آکر نماز فجر میں شریک ہو جاتے۔
	حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوفہ کے بزرگ تابعی تھے اور کثرتِ عبادت اورزہد  میں  مشہور تھے،اسی وجہ سے آپ حدیث روایت نہ کر سکے۔ قاضی ابو احمد عسال کہتے ہیں: آپ سے کوئی بھی سند نہیں ملتی۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرتِ سیّدُنا ابو زَیْد مِعْضَد عِجْلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی
	تابعین کرام میں سے ہی ایک حضرتِ سیِّدُناابو زید معضد عجلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبھی ہیں جو کہ انتہائی عبادت گزار، مجاہدِ اسلام اور شہید ہیں۔
(5160)…حضرتِ سیِّدُناہَمَّام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنامِعْضَد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدکے پاس گیا تو آپ سجدے میں گرے یہ دعا مانگ رہے تھے: اے اللہ!تھوڑی سی نیند کو میرے لیے کافی کر دے۔ پھر نماز میں مشغول ہو گئے۔
(5161)…حضرتِ سیِّدُنامعضد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدنے فرمایا: اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو مجھے اپنے شہد کی مکھی ہونے کی بھی پروا نہیں ہوتی(۱)…گرمیوں کی دوپہر کی پیاس (۲)…سردیوں کی لمبی راتیں اور (۳)…نماز تہجد میں کِتَابُ اللہکی لذت۔
خون لگے لباس میں نماز:
(5162)…حضرتِ سیِّدُنا علقمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ہم ایک شہر میں جہاد کرنے گئے تو میں نے اپنا ایک کپڑا حضرتِ سیِّدُنا معضد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدکو دیا جس کا انہوں نے عمامہ باندھ لیا دوران جہاد ایک پتھر آپ کے سر میں آلگا اور زخم ہو گیا،آپ  اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر فرمانے لگے: یہ چھوٹا ہے اور بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّچھوٹے میں برکت عطا فرمائے گا(اسی زخم سے آپ شہید ہو گئے)۔اس عمامے میں خون لگا ہوا تھاجسے میں نے  دھویا بھی لیکن نشان نہیں گیا۔  حضرت علقمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہوہ کپڑا پہن کر نماز پڑھا کرتے