آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنی جگہ نماز ہی میں مشغول رہے بعد میں ہم نے ان سے کہا: کیا آپ کو شیر سے ڈر نہیں لگا؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اس بات سے حیا آتی ہے کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کسی اور سے ڈروں۔
(56-5155)…حضرتِ سیِّدُناعلی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے ساتھیوں کے جانور چراتے یا پانی پلانے گھاٹ پر لے جاتے تو بادل آپ پر سایہ کئے ہوتا تھا۔
حالت نماز میں سانپ آگیا:
(5157)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سِیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُناعمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک ساتھی تھاجوآپ کے مشابہ تھا اور آپ کے ساتھ ہی رہتا تھا ایک رات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخیمہ میں تھے کہ سانپ آیا آپ سمجھے میرا ساتھی ہے وہ سانپ آپ کے قریب آگیا حتّٰی کہ آپ کے پیروں میں لپٹ گیا لیکن آپ نماز میں ہی رہے جب آپ سجدہ کرنے لگے تو وہ سجدے کی جگہ جا بیٹھا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کے اوپر ہی یا پھر اس کو ہٹا کر سجدہ کیا، جب صبح ہوئی تو آپ کا ساتھی آپ کے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ یوں یوں سانپ آیا تھا لیکن آپ اپنی جگہ سے نہ ہٹے ہو سکتا ہے اس نے آپ کو کوئی تکلیف پہنچائی ہو، آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان کو اپنے پیر پر سانپ کے نشان دکھائے اوربتایا کہ سانپ نے یہ یہ کیا تھا۔
(5158)…ہِشام دَسْتُوائی کابیان ہےکہ حضرت سیِّدُناعمرو بن عتبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےوصال کےبعد آپ کا ایک دوست آپ کی ہمشیرہ کے پاس گیا اور آپ کے شب وروز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ایک رات آپ نے نماز میں سورہ حٰمٓ شروع کی جب اس آیت پر پہنچے:
وَ اَنۡذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ اِذِ الْقُلُوۡبُ لَدَی الْحَنَاجِرِکٰظِمِیۡنَ ۬ؕ (پ۲۴،المؤمن:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سےجب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے۔
تو یہی پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔
ساری رات قبرستان میں:
(5159)…حضرتِ سیِّدُناعیسیٰ بن عمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رات کو قبرستان جاتے اور وہاں کھڑے ہو کر کہتے: اے قبر والو! اعمال نامے