چار ہزار درہم اور ایک قدم:
(5150)…اسماعیل بن عبد الرحمٰن سُدِّی کہتا ہے:حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عتبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چار ہزار درہم میں ایک گھوڑا خریدا تو لوگوں نے اتنا مہنگا لینے پر آپ کو بہت ملامت کی،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ گھوڑا(جہاد میں)جو بھی قدم دشمن کی طرف بڑھائے گا وہ مجھے چار ہزار درہم سے زیادہ پسند ہے۔
(5151)…حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس روزانہ دو ہی روٹیاں ہوا کرتی تھیں ایک سحری میں کھا لیتے تھےاور ایک افطاری میں۔
بادل کا سایہ:
(5152)…حضرتِ سیِّدُناخُوط بن رافععَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاسِعْ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن عتبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنےساتھیوں سے طے کر لیتے تھے کہ یہ ان کی خدمت کریں گےچنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک سخت گرم دن بکریاں چرانے نکلے تو آپ کے ایک دوست بھی آپ کے پیچھے آگئے، انہوں نے دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور ایک بادل آپ پر سایہ کئے ہوئے ہے، کہنےلگے: اے عمرو! آپ کو خوشخبری ہو۔ حضرتِ سیِّدُنا عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان سے وعدہ لے لیا کہ وہ یہ بات کسی کو نہیں بتائیں گے۔
(5153)…حضرتِ سیِّدُناعلی بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنماز پڑھا کرتے اور درندے دم ہلا ہلا کر آپ کی حفاظت کرتے تھے۔
صرف خوفِ خدا:
(5154)…حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے غلام بیان کرتے ہیں کہ ایک سخت گرمی والےدن ہم بیدار ہوئے تو ہم نے حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو موجود نہ پا کر تلاش کرنا شروع کیا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہمیں ایک پہاڑ پر نماز پڑھتے ہوئے نظر آئے ہم نے دیکھا کہ بادل آپ پر سایہ کئے ہوئے ہے۔ جب ہم دشمن سے مقابلے کے لیے جاتے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی کثرت نماز کی وجہ سے ہم رات کو پہرداری بھی نہیں کرتے تھےاور ایک رات ہم نے شیر کے دھاڑنے کی آواز سنی تو بھاگ گئے لیکن