نکل کھڑا ہو پھر وہ شہید ہو جائے تو اسے اسی چراگاہ میں سپرد خاک کر دیا جائے۔ آپ کے چچا زاد فرماتے ہیں: تھوڑی دیر بھی نہ گزری تھی کہ ایک منادی نے ندا دی: اے اللہکے سوارو! سوار ہو جاؤ۔ پس حضرتِ سیِّدُنا عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہلوگوں میں تیزی سے اٹھے اور آگے بڑھ گئے اتنے میں آپ کے والد حضرت عتبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آگئے، ان کو آپ کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: عَمْرو کو میرے پاس لاؤ، عمرو کو میرے پاس لاؤ۔ پھر ایک شخص کو حضرتِ سیِّدُنا عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پیچھے بھیجا تو اس نے آپ کو شہید پایا، میں نے اس چراگاہ کے علاوہ کسی بھی جگہ کو آپ کے مدفن کے قابل نہ پایا اور حضرت سیِّدُنا عتبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اس دن لوگوں کے ساتھ وہیں موجود تھے۔ ایک روایت یوں بھی ملتی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو ایک زخم لگا تو آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! تو تو چھوٹا ہے۔ پھر فرمایا: مجھے شام تک یہیں رہنے دو اگر میں شام تک زندہ رہا تو مجھے اٹھا لینا۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وہیں انتقال فرما گئے۔
70 ہزار درہم راہ خدا میں:
(5149)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن رَبیعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتےہیں:حضرتِ سیِّدُناعتبہ بن فرقدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرتِ سیِّدُناعبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: کیا تم اپنے بھتیجے کے معاملے میں میری مدد نہیں کرو گے کہ وہ میرا ہاتھ بٹائے۔ حضرتِ سیِّدُناعبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن عتبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: عمرو! اپنے ابا جان کی پیروی کرو۔حضرتِ سیِّدُناعمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے وہاں بیٹھے حضرتِ سیِّدُنا مِعْضَد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدکی طرف دیکھا تو انہوں نے فرمایا: ان کی بات مت مانو بلکہ نمازیں پڑھو اور ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے قریب ہو جاؤ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہگویا ہوئے: ابا حضور! میں تو ایک غلام ہوں اور اپنی آزادی کے لیے عمل کر رہا ہوں۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُناعتبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رو پڑے اور کہنے لگے: جان پدر! میں تجھ سے دو محبتیں کرتا ہوں ایک محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اور ایک وہ محبت جو باپ بیٹے سے کرتا ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہنے لگے: ابا حضور! آپ نے مجھے70 ہزار درہم دیئے ہیں اگر آپ وہ لینا چاہتے ہیں تو وہ بھی موجود ہیں ورنہ میرے پاس رہنے دیجئے تاکہ میں انہیں خرچ کر سکوں۔ آپ کے والد نے کہا: تم خرچ کر دو۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سارے کے سارے درہم راہ خدا میں خرچ کر ڈالے۔