Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
196 - 475
 بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈریے گااور ابو مُعِیْط کی اولاد کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کیجئے گا۔ اے صُہَیب! آپ تین دن تک لوگوں کو نماز پڑھائیں اور ان مذکورہ حضرات کو ایک گھر میں جمع کر دیں جب یہ حضرات کسی ایک شخص پر اتفاق کر لیں تو جو بھی ان کی مخالفت کرے اس کا سر اڑا دیجئےگا۔ جب سب لوگ باہر چلے گئے تو آپ نے فرمایا: اگر یہ کسی بے سینگ جانور کو بھی منتخب کر لیں تو وہ بھی انہیں درست راستے پر چلائے گا۔ آپ کے صاحبزادے سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: آپ نے یہ کام خود کیوں نہیں کیا؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میں زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی خلافت کا بار اٹھائے رکھوں۔ 
(5133)… امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کاسب سے برا عمل یہ ہے کہ وہ اپنی مسجدوں میں سونے کا پانی پھیرنے لگیں گے۔(1) (2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ابن ماجہ، کتاب المساجد والجماعة، باب تشدید المساجد، ۱/ ۴۱۰ ،حدیث: ۷۴۱ 
… یہ اس وقت ہے جب محض تَفَاخُرکے طورپربغیرکسی فائدہ کے مساجد میں نقش ونگارکیاجائے البتہ بطورِ تعظیم مساجد کو آراستہ کرنانہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے اسی طرح قرآنِ حکیم کوآراستہ کرنابھی جائز ومندوب ہے۔چنانچہ، سَیِّدی اعلی حضرت امام احمدرضاؔخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہ میں ایک مقام پرکچھ یوں رقمطراز ہیں: وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾ (پ۱۷،الحج:۳۲) جوالٰہی نشانیوں کی تعظیم کرےتووہ دلوں کی پرہیزگاری سےہے۔وَقَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ  (پ۱۷،الحج:۳۰) جوالٰہی آداب کی چیزوں کی تعظیم کرے تواس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتری ہے۔اس کی نظیرمصحف شریف کامُطَلاّ ومُذَھَّب کرناہے کہ اگرچہ سلف میں نہ تھا، جائز ومستحب ہے کہ دلیْل تعظیم وادب ہے۔درمختارمیں ہے:مُصْحَف شریف مطلاّ ومذھَّب کرناجائز ہے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم ہے جیساکہ مسجدکومنقش کرنے میں۔ یوں ہی مساجد کی آرائش ان کی دیواروں پر سونے چاندی کے نقش ونگارکہ صدرِ اول میں نہ تھے،بلکہ حدیث میں تھا: ’’تم مسجدوں کی آرائش کرو گے جیسے یہود ونصارٰی نے آرائش کی۔‘‘ مگر اب ظاہری تزک واحتشام ہی قلوبِ عامہ پر اثرِ تعظیم پیدا کرتاہے لہٰذاائمۂ دین نے حکم جواز دیا۔ تبیین الحقائق میں ہے: گچ اور سونے کے پانی سے مسجدمیں نقش بنانامکروہ نہیں ہے۔ رد المحتارمیں ہے:  البتہ محراب میں گج اور سونے کے پانی سے نقش بنانا مکروہ ہےیونہی مسجدوں کے لئے کنگرے بنانا کہ مساجد کے امتیاز اور دور سے ان پراطلاع کا سبب ہیں،اگرچہ صدرِ اول میں نہ تھے۔ بلکہ حدیث شریف میں ارشاد ہوا تھا: مسجدیں منڈی بناؤ۔دوسری حدیث میں ہے: یعنی مسجدیں مُنڈی بناؤاُن میں کنگرے نہ رکھو، اور اپنے شہر اونچے کُنگرے داربناؤ۔مگراب بلانکیر مسلمانوں میں رائج ہے ۔ اورجسے مسلمان اچھاسمجھیں وہ خداکے یہاں بھی اچھاہے۔امام ابن المنیر’’ شرح جامع صحیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’یعنی حدیث سے مستنبط کیا گیا ہے کہ مسجدوں کی آرائش مکروہ ہے کہ نمازی کا خیال بٹے گایااس لئے کہ مال بیجا خرچ ہو گا، ہاں اگرتعظیمِ مسجد کے طورپرآرائش واقع ہو…