Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
195 - 475
اس نے مجھے قتل کر دیا۔ چنانچہ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور ابو لؤلؤنے تیرہ افراد کو زخمی کر ڈالا جن میں سے چھ یا سات شہید ہو گئے ، لوگ ایک دوسرے پر گر رہے تھے اتنے میں ایک شخص نے ابو لؤلؤ کو پیچھے سے دبوچ لیا، کسی نے کہا: اے اللہ کے بندو! سورج طلوع ہونے والا ہے نماز پڑھ لو چنانچہ لوگ دھکم دھکا ہونے لگے اور حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آگے کر دیا، آپ نے قرآن پاک کی دو مختصر سورتوں اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾ اور اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَ الْفَتْحُ ۙ﴿۱﴾ کی تلاوت  کے ساتھ لوگوں کو نماز پڑھائی۔پھر امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اٹھا کر لے جایا گیا تو لوگ آپ کےپاس آنے لگے، آپ نے آواز لگائی: عبداللہ بن عباس! جائیے اور لوگوں سے پوچھئے کہ کس نے اس کی مدد کی تھی؟ لوگوں نے کہا: اللہکی پناہ ہمیں  اس کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا، پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: طبیب کو بلاؤ۔ چنانچہ طبیب کو بلا لیا گیا، اس نے آکر عرض کی: آپ کو کونسا مشروب پسند ہے؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: نبیذ۔ چنانچہ آپ کو نبیذ پلائی گئی تو وہ زخموں کے راستے باہر آگئی۔ لوگ کہنے لگے : یہ پیپ ہے، طبیب کے کہنے پر آپ کو دودھ پلایا گیا تو وہ بھی زخموں کے راستے باہر آگیا۔ طبیب نے کہا: میرے خیال میں آپ کے پاس شام تک کا وقت بھی نہیں ہے لہٰذا جو ذمہ داری ادا کرنی ہے کر لیجئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے  اپنے بیٹے سے فرمایا: عبداللہ! جاؤ میرے پاس  شانے کی وہ ہڈی لاؤ میں نے جس  میں وہ بات لکھی ہے کہ اگر اللہچاہتا تو وہ خود اس کے متعلق فیصلہ فرما دیتا۔
	 حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: آپ کی طرف سے میں اسے مٹا دوں گا۔ آپ نے فرمایا: نہیں، اللہکی قسم! اسے میرے علاوہ کوئی نہیں مٹائے گا۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے ہاتھ سے وہ مٹا دیا۔ اس میں وراثت میں دادا کا حصہ لکھا ہوا تھا۔ پھر فرمایا: علی، عثمان، عبد الرحمٰن بن طلحہ، زبیر اور سعد(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ)کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ان حضرات کو بلایا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: لوگوں میں علی اور عثمان ہی خلافت کے اہل ہیں اور اے علی! ہو سکتا ہے لوگ آپ کو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قرابت داری،داماد ہونے اور اس علم وفقہ کے ذریعے پہچانیں جواللہ عَزَّ  وَجَلَّنے آپ کو عطا کیا ہے اورآپ کو خلیفہ بنا لیں تو اس معاملے میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈریے گا۔ پھر فرمایا: اے عثمان! ممکن ہے لوگ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آپ کی رشتہ داری (دامادہونا) اور آپ کی عزت وشرف کو پہچان کر آپ کو خلیفہ منتخب کر لیں تو آپ