اور فرمانے لگے: یقیناً یہ شخص اپنے ربّ کے ہاں بہت عزت والا ہے۔ چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ سے اس کا نام پوچھا تو ربّ تعالیٰ نے بتا دیا پھر ارشاد ہوا: اب ہم تمہیں اس کا عمل بتاتے ہیں:میں نے لوگوں کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا اس پر یہ ان سے حسد نہیں کرتا، چغلی نہیں کرتا اور والدین کی نافرمانی نہیں کرتا۔
آیتِ قرآنی کی تفسیر:
(5122)…فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَ کَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَ اَہۡلَہَا ؕ (پ۲۶،الفتح:۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔
اس کی تفسیر میں حضرتِ سیِّدُناعمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اس کلمے سے مراد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہہے۔
(5123)…حضرتِ سیِّدُناعمرو بن میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:لوگوں نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ سے بڑھ کرکبھی کوئی کلمہ اپنے منہ سے نہیں نکالا۔حضرتِ سیِّدُنا سعید بن عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقفرماتے ہیں: جانتے ہو یہ کلمہ کیا ہے؟ خدا کی قسم! یہی وہ کلمہ ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرتِ سیِّدُنامحمد مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے اصحاب پر لازم فرمایا اور یہی حضرات اس کے زیادہ حقدار اور اہل تھے۔
ان مسائل میں نہ پڑو:
(5124)…حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن میمون اودی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: تین مسائل کو چھوڑ دو اور ان کے بارے میں گفتگو نہ کرو: (۱)…تقدیر(۲)…ستارے اور(۳)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلی اور امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔
(5125)… فرمانِ باری تعالیٰ ہے: حُوۡرٌ مَّقْصُوۡرٰتٌ فِی الْخِیَامِ ﴿ۚ۷۲﴾ (پ۲۷،الرحمن:۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان: حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین۔
حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن میمون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یہ خیمے اپنی دیواروں اور دروازوں سمیت ایک ہی موتی سے ہوں گے۔