(5103)…فرمان ِباری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوۡا صَالِحًا ؕ (پ۱۸،المؤمنون:۵۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو۔
حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلاس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس سے مراد حضرتِ سیِّدُنا عیسٰیعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں جو کہ اپنی والدہ ماجدہ کے سوت کاتنے کی کمائی سے کھاتےتھے۔
سیّدُنا عمرو بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل کی مرویات
حضرتِ سیِّدُناعمرو بن شرحبیلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطاب، حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود،حضرتِ سیِّدُنا خَبَّاب بن اَرَت اور دیگر کئی انصار و مہاجرین صحابَۂ کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنسے بالمشافہ احادیث روایت کرتے ہیں۔
شراب کی حرمت:
(5-05104)…حضرتِ سیِّدُناعَمْروبن شرحبیلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلحضرتِ سیِّدُناعُمَربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےمتعلق روایت کرتےہیں کہ جب شراب کی حرمت کاحکم آیاتوحضرتِ سیِّدُناعُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےعرض کی: اےاللہ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے واضح حکم بیان فرما۔ چنانچہ سورۂ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی: یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِؕ قُلْ فِیۡہِمَاۤ اِثْمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثْمُہُمَاۤ اَکْبَرُ مِنۡ نَّفْعِہِمَا ؕ (پ۲،البقرۃ:۲۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہےاور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے ۔
لہٰذا حضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلا کر ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں اور واضح حکم بیان فرما۔ چنانچہ سورۂ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡتُمْ سُکٰرٰی (پ۵،النساء:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ۔
پھر جب بھی حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مُنادِی نماز کے لیے پکارتے تو کہتے: نشے والے