تَعَالٰی عَلَیْہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمان: کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾ (پ۲۷،الرحمٰن:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اسے ہر دن ایک کام ہے۔
کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس کے کاموں میں سے ہےکہ جس کا وقت پورا ہو گیا ہے اسے موت دیتا ہے، ماؤوں کے پیٹ میں جیسی چاہے تصویر بناتا ہے، جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے اور قیدیوں کو آزاد کرتا ہے۔
دونوں فریق جنتی ہیں:
(5100)…حضرتِ سیِّدُناابووائلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عَمْرو بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلنے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں اور سامنے گنبد بنے ہوئے ہیں، میں نے کہا:یہ کس کے لیے ہیں؟ کہا گیا: کَلاع اور حَوْشَب کے لیے کہ وہ دونوں حضرتِ سیِّدُنامُعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔ میں نے کہا: عمار اور ان کے ساتھی کہاں ہیں؟ کہا گیا: تمہارے سامنے۔ میں نے کہا: انہوں نے تو ایک دوسرے کو قتل کیا تھا۔ جواب ملا: جب وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملے تو اسے بہت زیادہ بخشنے والا پایا(یعنی وہ معاف کر دیے گئے)۔
بے وضو نماز پڑھنے کا عذاب:
(02-5101)…حضرتِ سیِّدُناعمرو بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلفرماتے ہیں: ایک شخص کا انتقال ہو گیا جب اسے قبر میں اتارا گیا تو فرشتے اس کے پاس آئے اور کہا: ہم تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عذاب سے سو کوڑے ماریں گے۔اس شخص نے اپنے نماز روزے اور جہاد وغیرہ کا ذکر کیا یہاں تک کہ فرشتے کمی کرتے کرتے دس کوڑوں تک پہنچ گئے، وہ شخص پھر منت سماجت کرنے لگا یہاں تک کہ صرف ایک کوڑا سزا باقی رہ گئی، فرشتوں نے کہا: ہم تجھے ایک کوڑا تو ضرور ماریں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایک کوڑا مارا جس سے پوری قبر میں آگ شعلہ زن ہو گئی اور وہ شخص بے ہوش ہو گیا جب ہوش آیا تو کہنے لگا: تم نے مجھے یہ کوڑا کس وجہ سے مارا؟ فرشتوں نے کہا: ایک دن تو سو کر اٹھا اور وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی اور تو نے ایک مظلوم کی فریاد بھی سنی جو مدد کے لیے پکار رہا تھا لیکن تو نے اس کی مدد نہیں کی۔