Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
185 - 475
	اس سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: گائے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میرا بھی یہی خیال ہے۔
علماکے لیے نصیحت:
(5095)…حضرتِ سیِّدُنامُرَّہ بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلفرماتے ہیں: سیِّدُنا سلمان بن ربیعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے وراثت کا ایک مسئلہ پوچھا گیا تو سیِّدُنا عمرو بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلنے ان سے اختلاف کیا چنانچہ سیِّدُنا سلمان بن ربیعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو غصہ آگیا اور آواز بھی بلند ہو گئی، سیِّدُنا عمرو بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل نے کہا: خدا کی قسم! اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اس کے بارے میں یہی حکم نازل فرمایا ہے۔ لہٰذا دونوں حضرتِ سیِّدُنا ابوموسٰی اَشْعَری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آئے (اوراپنا اپنا موقف بتایا تو) حضرتِ سیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: بات وہی درست ہے جوعمرو بن شرحبیل نے کہی ہے اور حضرت سلمان سے فرمایا: جب آپ کو کوئی نصیحت کرے تو آپ کو غصہ نہیں کرنا چاہیے اور عمرو بن شرحبیل سے فرمایا: آپ کو چاہیے تھا آپ پست آواز میں ان کو اپنا موقف بتا دیتے۔ یعنی سرگوشی میں مسئلہ حل کر دیتے اور ایسے رد نہ کرتے کہ لوگ سنیں۔
(5096)…حضرتِ سیِّدُناشریحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُناابومَیْسَرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی عیادت کرنے آئے تو پوچھا: کیا آپ اشارے سے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔
جنازے کے پیچھے چلنا :
(5097)… جب حضرتِ سیِّدُناابو میسرہ عمرو بن شرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلکا انتقال ہوا تو حضرتِ سیِّدُنا ابومعمر عبداللہ بن سَخْبَرَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:اے عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصحاب! ابو میسرہ کے پیچھے چلو کیونکہ یہ جنازوں کے پیچھے چلنے کو مستحب جانتے تھے۔
(5098)…حضرتِ سیِّدُناابواسحاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناابومیسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ حضرتِ سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپڑھائیں۔
ہر دن ایک کام:
(5099)…حضرتِ سیِّدُناابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابومیسرہ رَحْمَۃُ اللہِ