حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن سلیمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا تھا:یہ زرہ بھی تیری ہوئی، یہ گھوڑا بھی تیرا ہوا اور 900درہم بھی اس کے لیے مقرر کر دیئے، وہ شخص ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا حتّٰی کہ جنگ صفین میں شہید ہوا۔
(5086)…حضرتِ سیِّدُنا شریحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: جب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُناامیر معاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے جنگ کا ارادہ کیا تو اپنی زرہ کو گم پایا، یہاں تک کہ جب جنگ ختم ہو گئی اور آپ کوفہ واپس آئے تو وہ زرہ ایک یہودی کے ہاتھ میں نظر آئی جو اسے بازار میں بیچ رہا تھا، چنانچہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے فرمایا:او یہودی! یہ زرہ تو میری ہے نہ میں نے اسے بیچاتھا اورنہ ہی کسی کو تحفہ دی تھی۔ یہودی بولا: یہ میری زرہ ہے اور میرے ہاتھ میں ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ہمارا فیصلہ قاضی کے پاس ہو گا۔چنانچہ دونوں حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آئے اورآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قاضی شریحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پہلو میں بیٹھ گئے جبکہ یہودی آپ کے سامنے بیٹھ گیا،آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: اگر کوئی مسلمان میرا فریق ہوتا تو میں ضرور اس کے ساتھ ہی بیٹھتا لیکن میں نےحضورنبی پاک،صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےسناہےکہ”انہیں(یعنی کفارکو)ذلیل کروجیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں ذلیل کیا ہے۔“ حضرتِ سیِّدُناشریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہنے لگے: یا امیر المؤمنین! آپ اپنا مدعا بیان فرمائیے۔ امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرمانے لگے:ہاں، یہ یہودی کے ہاتھ میں جو زرہ ہے یہ میری ہے میں نے نہ اسے بیچا تھا نہ کسی کو تحفہ دی تھی۔ حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: یہودی تیرا کیا دعوٰی ہے؟ یہودی بولا: یہ میری زرہ ہے اور میرے ہاتھ میں ہے۔ حضرتِ سیِّدُناشریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا:یاامیرالمؤمنین!آپ گواہ پیش کیجئے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ہاں، قنبر اور حسن دونوں گواہی دیں گے کہ یہ زرہ میری ہے۔حضرتِ سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہنے لگے:بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قبول نہیں۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: کیا ایک جنتی شخص کی گواہی قبول نہیں؟ میں نے حضور ساقی کوثر، شافع محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا ہے کہ ’’حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘(1) (حضرتِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترمذی ، کتاب المناقب ،باب ابی محمد الحسن ...الخ، ۵/ ۴۲۶ ،حدیث:۳۷۹۳،عن ابی سعید الخدری رضی الله عنه