مجبور کر دو اگر وہ تمہیں گالی دیں تو انہیں مارو اور اگر وہ ماریں تو تم انہیں قتل کر دو۔“
پھر قاضی شُرَیْح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی:یا امیر المؤمنین! آپ کیافرماتے ہیں؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا: میری زرہ میرے ایک گندمی رنگ کے اونٹ سے گر گئی تھی جو کہ اس یہودی نے اٹھا لی ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اے یہودی! تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: یہ زرہ میری ہے اور میرے ہاتھ میں ہے۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا: یاامیر المؤمنین!خدا کی قسم!آپ نے بالکل سچ فرمایاوہ زرہ آپ ہی کی ہے لیکن دو گواہ بھی ضروری ہیں۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے غلام قنبر اور اپنے صاحبزادے حضرتِ سیِّدُناامام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلایا تو ان دونوں نے گواہی دی کہ یہ زرہ آپ ہی کی ہے۔حضرتِ سیِّدُناقاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا: آپ کے غلام کی گواہی تو ہم قبول کر لیتے ہیں لیکن آپ کے صاحبزادے کی گواہی آپ کے حق میں قابلِ قبول نہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: تمہاری ماں تم سےمحروم ہو،کیا تم نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے نہیں سنا کہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایاہے:حسن اورحسین جنتی جوانوں کےسردار ہیں۔(1) قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی: جی بالکل سنا ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا: کیا تمہیں جنتی جوانوں کے سردار کی گواہی کافی نہیں لگتی؟ اللہکی قسم! میں تمہیں (کوفہ کاعلاقے) بانقیا بھیج دوں گا جہاں تمہیں چالیس دن تک فیصلے کرنے پڑیں گے۔پھر امیر المؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہودی سے فرمایا: زرہ لے لو۔ یہودی کہنے لگا: مسلمانوں کا امیر میرے ساتھ مسلمانوں ہی کے قاضی کے پاس آیا، قاضی نے امیر کے خلاف فیصلہ دیا تو امیر نے بھی قبول کر لیا،امیر المؤمنین! آپ نے سچ کہا، خدا کی قسم! یہ زرہ آپ ہی کی ہے جو آپ کے اونٹ سے گری تو میں نے اٹھا لی تھی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اللہکے رسول ہیں۔ چنانچہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہ زرہ اسی کو دے دی اور 900درہم بھی دیئے۔ وہ شخص جنگ صفین میں آپ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترمذی ، کتاب المناقب ،باب ابی محمد الحسن ...الخ، ۵/ ۴۲۶ ،حدیث:۳۷۹۳،عن ابی سعید الخدری رضی الله عنه
2… سنن الکبرٰی للبیھقی ،کتاب اداب القاضی ، باب انساف الخصمین ...الخ،۱۰/ ۲۳۰ ،حدیث: ۲۰۴۶۵ بتغیر