Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
180 - 475
 ہیں کہ حضور سیِّد عالَم، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جو بھی جوان دنیا کی لذت وخواہش کو چھوڑ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت میں لگ جاتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسے72صدّیقین کا ثواب عطا فرماتا ہے۔ پھر ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: میرے لیے اپنی خواہش کو چھوڑنے والے اور اپنی جوانی کو میرے لیے خرچ کرنے والے جوان! تو میرے نزدیک ایک فرشتہ کی طرح ہے۔
عقل مندوں کی فضیلت:
(5084)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ شافِعِ محشر، ساقِیِ کوثر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اَلْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ تِسْعَةٌ وَّتِسْعُوْنَ دَرَجَةً لِاَهْلِ الْعَقْلِ وَدَرَجَةٌ لِسَائِرِ النَّاسِ الَّذِيْنَ هُمْ دُونَهُمیعنی جنت کے سو درجات ہیں ان میں سے 99 عقل والوں کے لیے ہیں اور ایک درجہ باقی تمام لوگوں کے لیے۔ (1)
یہودی کا قبول اسلام:
(5085)…حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن یزید تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیبیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم نے فرمایا: امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ  المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی زرہ گر گئی تھی اوراسےایک یہودی نے اٹھالیاتھا۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےیہودی کےہاتھ میں اپنی زرہ پہچان لی اورفرمایا:یہ میری زرہ ہےجو میرے گندمی رنگ کے اونٹ سے گر گئی تھی۔ یہودی بولا: یہ میری ہے اور میرے ہی ہاتھ میں ہے۔پھر یہودی نے آپ سےکہا:ہمارے درمیان مسلمانوں کاقاضی فیصلہ کرےگا۔چنانچہ دونوں سیِّدُناشُریحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےپاس آئے، جب آپ نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو دیکھا تو اپنی جگہ سے اٹھ کر آگے بڑھے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھایا،آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اگر میرا مقابل کوئی مسلمان ہوتا تو میں ضرور مجلس میں اس کے برابر ہی بیٹھتا لیکن میں نے حضور نبی پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا ہے کہ’’نشت گاہ میں ان (یعنی کفار)کے برابر نہ بیٹھو اور انہیں تنگ راستے کی طرف 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندالفردوس،۱ / ۳۳۲ ،حدیث: ۲۴۲۴