Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
178 - 475
حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا ایک بیٹا تھا جو پڑھنے کے بجائے کتے لڑواتا تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قلم دوات منگوائی اور اس کے استاد کو لکھا:
تَرَكَ الصَّلَاةَ لِاَكْلُبٍ يَسْعٰى بِهَا		طَلَبَ الْهرَاشَ مَعَ الْغُوَاةِ الرُّجَّسِ
فَاِذَا اَتَاكَ فَعِضَّهٗ بِمُلَامَةٍ		وَعِظْهٗ مَوْعِظَةَ الْاَدِيْبِ الْاَكْيَسِ
فَاِذَا هَمَّمْتَ بِضَرْبِهٖ فَبِدُرَّةٍ		فَاِذَا ضَرَبْتَ بِهَا ثَلَاثًا فَاحْبِسْ
وَاعْلَمْ بِاَنَّكَ مَا اَتَيْتَ فَنَفْسُهٗ		مَعَ مَا تَجَرَّعَنِیْ اَعَزُّ الْاَنْفُسِ
	ترجمہ:اس نے کتوں کے ساتھ دوڑنے کے لیے نماز چھوڑ دی ہے ، گمراہ ناپاک لوگوں کے ساتھ مل کر کتے لڑواتا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آئے تو اسے ملامت کیجئے گا اور عقلمند استاد کی طرح نصیحت کیجئے گا۔جب مارنے کا ارادے کریں تو درے سے ماریے گا اور جب تین مار چکیں تو بس کر دیجئے گااور یاد رکھیئے! جو بھی آپ کریں گے یہ آپ ہی کی طرف سے ہو گا حالانکہ  سب سے عزیز جان نے مجھے غصے کے گھونٹ پینے پر مجبور کیا ہے۔
سیّدُنا شُرَیْح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
	حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےجن بدری صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے بالمشافہ احادیث روایت کی ہیں ان میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب اورحضرتِ سیِّدُنا علی بن ابو طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی ہیں۔
میں ان سے بری ہوں:
(5080)…امیرالمؤمنین  حضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! وہ جنہوں نے دین میں نئی نئی راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہو گئے وہ اس امت  کےبدعتی، خواہشات کی پیروی کرنے والے اور گمراہ لوگ ہوں گے۔ اے عائشہ! ہر گناہ گار کے لیے توبہ ہے سوائے بدعتیوں اور خواہش پرستوں کے، میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری(1)۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بدعت کےمعنیٰ،اس کی اقسام واحکام جاننےکے لئے مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی مشہور ومعروف تصنیف ’’جاء الحق‘‘سے بدعت کے باب کا مطالعہ کیجئے۔
2… السنة لابن ابی عاصم ،ذکر اھواء المذمو مة...الخ،ص۹، حدیث: ۴