ہے۔ امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: تجھ جیسے شخص کو قصے بیان کرنے کی اجازت ہے۔
نعمتِ الٰہی کو یاد کر:
(5076)…حضرتِ سیِّدُنااَصمعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا قاضی شریحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےکہا:آپ کواللہعَزَّ وَجَلَّنےبڑامرتبہ عطافرمایاہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا: تو غیر کے اندر پائی جانے والی نعمت کو تو یاد کر رہا ہے جبکہ اپنے اندر پائی جانے والی نعمت کو بھول گیا۔ اس نے کہا: خدا کی قسم! آپ کا یہ مقام دیکھ کر میں آپ سے حسد کرنے لگ جاؤں گا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نہ تجھے کوئی فائدہ دے گا اور نہ مجھے کوئی نقصان۔
(5077)…حضرتِ سیِّدُناقاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جب بھی دو افراد ملتے ہیں تو ان میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سلام میں پہل کرے۔
فیصلہ تو یہی ہے:
(5078)…حضرتِ سیِّدُناامام شَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک شخص سےخیارِ رؤیت کی شرط پر گھوڑا خریدا،آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گھوڑا ساتھ لے کر چلے تو وہ تھک گیا، واپس آئے اور گھوڑے والے سے فرمایا: اپنے گھوڑا واپس لو۔اس نے کہا:نہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: میرے اور اپنے درمیان کسی کو قاضی چن لو۔اس نے کہا: شریح فیصلہ کریں گے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:کون شُرَیح؟اس نےکہا:شریح عراقی۔چنانچہ دونوں حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےپاس پہنچےاوراپنااپنامدعابیان کیا۔قاضی صاحب نے کہا:یاامیر المؤمنین! جیسے لیا تھا ویسے ہی واپس کر دیجئے، یا پھر یہ کہا کہ جتنے کا لیا تھا اتنے واپس لے لیجئے۔ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا: فیصلہ تو یہی ہے، آپ کوفہ چلے جائیں۔ یہ پہلا دن تھا جب امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو جانا تھا۔
استاد کو پیغام:
(5079)…حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ