Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
176 - 475
 کیونکہ آپ کا معاملہ زیادہ محفوظ ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میرا خیال ہے تم دوسروں پر تو نعمت الٰہی کو پہچانتے ہو لیکن جو خود تمہاری ذات میں ہے اس سے غافل ہو۔
طاعون سے مت بھاگو:
(5073)…حضرتِ سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے  طاعون کی وبا کی وجہ سے بھاگے ہوئے اپنے ایک بھائی کو مکتوب لکھا: اما بعد!  تم اور وہ جگہ جس میں تم ہواس ذات کی نگاہ میں ہےجس کا مطلوب اسے عاجز نہیں کر سکتا اور بھاگنے والا اس سے چھوٹ نہیں سکتااور وہ جگہ جسے تم پیچھے چھوڑ گئے ہو وہاں سب ہی لوگ مبتلائے طاعون نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے دنوں کو راتوں میں بدلا، تم اور وہ سب ایک ہی فرش پر ہو اور یہ چراگاہ قدرت والے سے ضرور قریب ہے۔والسلام
فیصلہ کرنے کا طریقہ:
(5074)…حضرتِ سیِّدُناقاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے میری طرف مکتوب  بھیجا:’’جب تمہارے پاس کوئی ایسا معاملہ آئے  جس کا حکم کتابُاللہمیں پاؤ تو اسی سے فیصلہ کرنا اور لوگ تمہیں ہرگز فتنہ میں نہ ڈالیں، اگر کوئی ایسا معاملہ آئے جو کتابُاللہاور سنتِ رسول  میں نہ پاؤ تو لوگوں کے اجماع کو دیکھ کر اسی کے مطابق فیصلہ کرنا۔“
ایمان کی مضبوطی اور زوال:
(5075)…حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ساتھ کوفہ کے ایک بازار میں گیا، وہاں ایک قصہ گو قصے بیان کر رہا تھا امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس کے پاس رک گئے اور فرمایا:اے قصہ گو! تو قصے بیان کر رہا ہے اور ہم لوگ زمانہ  نبوی کےقریب ہیں، میں تجھ سے ایک سوال کرتا ہوں اگر تو نے جواب دے دیا تو ٹھیک ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ قصہ گو نے عرض کی! یاامیرالمؤمنین! آپ جو چاہیں پوچھ لیں۔آپ نے فرمایا: ایمان کی مضبوطی اور اس کا زوال کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: ایمان کو مضبوط کرنے والی چیز تقویٰ وپرہیزگاری ہے اور ایمان کو ختم کرنے والی چیز لالچ