میں آیا تو یتیم، بے سہارا، تنہا تھا،میں نے بھلائی کی امید پر اُس شخص سے شادی کی جو مجھے کمی محسوس نہ ہونے دے،میرے لیے اپنی محبت کا اظہار کرے اور مجھے اچھا تحفہ دے۔
حضرتِ سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:
قَدْ سَمِعَ الْقَاضِیْ مَا قُلْتُمَا وَعَلَى الْقَاضِیْ جَهْدٌ اِنْ عَقَل
قَالَ لِلْجَدَّةِ بَيْنِیْ بِالصَّبِیِّ وَخُذِیْ اِبْنَكِ مِنْ ذَاتِ الْعِلَل
اِنَّهَا لَوْ صَبَرَتْ كَانَ لَهَا قَبْلَ دَعْوَاهَا يُبْغِيْهَا الْبَدَل
ترجمہ:قاضی نے تم دونوں کی بات سن لی ہے اور اگر وہ عقل مند ہے تو اس پر کوشش کرنا بھی لازم ہے۔قاضی ، نانی سے کہتا ہے: اس حیل وحجت کرنے والی سے اپنے بیٹے کو لے کر الگ ہو جا۔اگر وہ اپنے اس دعوے سے پہلےجس نے فیصلے کو بدل دیا صبر کرتی تو فیصلہ اسی کے حق میں ہوتا۔لہٰذا آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نانی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔(1)
(5069)…حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک شخص کے خلاف اسی کے اعتراف جرم پر فیصلہ دیا تو اس نے کہا: اے ابو امیہ! آپ نے بغیر گواہی کے میرے خلاف فیصلہ سنا دیا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: مجھے تمہاری خالہ کی بہن کے بیٹے نے گواہی دی ہے(یعنی خود تم نے اعتراف کیا ہے)۔
مفت کا چارہ:
(5070)…حضرتِ سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مکھی کھا نے وا لی بکری کے متعلق پو چھا گیا تو فرمایا: یہ تو مفت کا چا رہ ہےاور اس بکری کا دودھ پا ک ہے۔
(5071)…حضرتِ سیِّدُناابو حیان تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکہتے ہیں: میرے والد نے بتایا کہ حضرتِ سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکاپالتو بِلامر گیا تو آپ نے مجھےحکم دیا کہ اسے گھر کے صحن میں دفنا دو، میں نے دفنا دیا،اس کو پھینکنے کی کوئی عوامی جگہ نہ تھی لہٰذامسلمانوں کو تکلیف سے بچانے کے لیے گھر ہی میں دفن کر وا دیا۔
(5072)…حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے ایک شخص نے کہا: میں آپ سے عہد کرنا چاہتا ہوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ماں اگر نہ ہو یا پرورش کی اہل نہ ہویا انکار کر دیا یا اجنبی سے نکاح کیا تو اب حق پرورش نانی کے لیے ہے۔(بہار شریعت، حصہ۸ ،۲/ ۲۵۴)مزید تفصیل کےلیےمذكوره مقام کےصفحہ 252 تا 258 کا مطالعہ فرمائیں۔