فیصلے کا انوکھا انداز:
(5068)…حضرتِ سیِّدُناقاضی شریحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےپاس ایک بچے کی نانی اور ماں بچے کے بارے میں فیصلہ کروانے آئیں، ہر ایک کا یہ دعوٰی تھا کہ میں اس بچے کی زیادہ حقدار ہوں چنانچہ نانی کہنے لگی:
اَبَا اُمَيَّةَ اَتَيْنَاكَ وَاَنْتَ الْمَرْءُ نَاْتِيْهِ
اَتَاكَ اِبْنٌ وَاُمَّاهٗ وَ كِلْتَانِ تُفَدِّيْهِ
فَلَوْ كُنْتِ تَاَيَّمْتِ لَمَا نَازَعْتُكِ فِيْهِ
تَزَوَّجْتِ فَهَاتِيْهٖ وَلَا يُذْهِبُ بِكِ التِّيْهِ
اَلَا يَا اَيُّهَا الْقَاضِی فَهٰذِیْ قِصَّتِیْ فِيْهِ
ترجمہ: اے ابو امیہ! ہم آپ کے پاس آئی ہیں اور آپ جیسے شخص کے پاس ہمیں آنا بھی چاہیے ایک بیٹا اور اس کی دو مائیں آپ کے سامنے حاضر ہیں اور دونوں ہی اس بیٹے پر جان قربان کرتی ہیں،(عورت کو مخاطب کر کے کہا) اگر تو بیوہ ہی رہتی تو میں اس بچے کے لیے تیرے خلاف ہرگز مقدمہ نہ کرتی اب چونکہ تو نے دوسری شادی کر لی ہے لہٰذا یہ بچہ مجھے دے دے اور تجھے کسی قسم کا غرور نہیں ہونا چاہیے،جناب قاضی صاحب! اس بچے کے بارے میں میرا یہی بیان ہے۔
ماں کہنے لگی:
اَلَا اَيُّهَا الْقَاضِیْ قَدْ قَالَتْ لَكَ الْجَدَّہْ
قَوْلًا فَاسْتَمِعْ مِنِّیْ وَ لَا تُنْظِرَنَّنِیْ رَدَّهْ
تَعْزَى النَّفْسُ عَنِ ابْنِیْ وَكَبِدِیْ حَمَلَتْ كَبِدَهْ
فَلَمَّا صَارَ فِیْ حِجْرِیْ يَتِيْمًا ضَائِعًا وَحْدَهْ
تَزَوَّجْتُ رَجَاءَ الْخَيْرِ مَنْ يَّكْفِيْنِیْ فَقْدَهْ
وَمَنْ يَّظْهَرُ لِیَ الْوُدَّ وَمَنْ يُّحْسِنُ لِیْ رِفْدَهْ
ترجمہ: جناب قاضی صاحب! آپ نےنانی کی بات سن لی اب میری عرض بھی سنیں اور بچہ مجھے دینے میں ذرا تاخیر نہ فرمائیں،میرا دل مجھے بچے کے متعلق دلاسا دے رہا ہے کیونکہ میرے خون جگر سے اس کی نشو ونما ہوئی،جب وہ میری گود