قاضی کی حاضر جوابی:
(5065)…حضرتِ سیِّدُناابوعبداللہسالِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناقاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس موجود تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: کہاں ہیں آپ؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: تمہارے اور اس دیوار کے درمیان(یعنی تمہارے سامنے)۔اس شخص نے کہا: میں ملک شام سےآیا ہوں۔آپ نے فرمایا: کافی دور ہے۔ اس نے کہا: میں نےایک عورت سے نکاح کیا ہے۔آپ نے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّتم دونوں میں محبت اور نیک اولادعطا فرمائے۔ اس نے کہا: میں نے اسے ایک گھر دینے کی شرط بھی رکھی تھی۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:شرط کاپوراکرناضروری ہے۔اس نےکہا:ہمارے درمیان فیصلہ کیجئے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: وہ تو میں کر چکا۔
علما کی صحبت سے علم بڑھتا ہے:
(5066)…حضرتِ سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا گیا:اس قدر علم آپ کو کیسے ملا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: علما کی صحبت سے، میں ان سے علم لیتا بھی تھا اور دیتا بھی۔
عرب کے بڑے قاضی:
(5067)…حضرتِ سیِّدُنا ہُبَیْرَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا: اے لوگو! تمہارے فقہا میرے پاس آتے ہیں، وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں اور میں ان سے کرتا ہوں۔ دوسرے دن ہم امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس گئے حتّٰی کہ صحن بھر گیا، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہلوگوں سے سوال کرتے اور لوگ آپ سے سوال کرتے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ انہیں ان کے جوابات دیتے رہے یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی اور لوگ تھک گئے صرف حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہدو زانوبیٹھے رہے آپ سے جو بھی پوچھا جاتا آپ جواب دے دیتے اور آپ بھی جس چیز کے بارے میں پوچھتےامیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآپ کو جواب بتا دیتے حتّٰی کہ امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اے شریح! کھڑے ہو جاؤ تم عرب کے سب سے بڑے قاضی ہو۔