Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
171 - 475
حضرت سیّدُنا شُرَیْح بن حارث کِنْدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی
	حضرتِ سیِّدُناقاضی ابو اُمَیَّہ شریح بن حارث کِنْدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیبھی تابعی بزرگ ہیں، آپ حالتِ تسلیم ورضا میں رہتے اور اپنے نفس کا خوب محاسبہ کرتے تھے۔
	منقول ہے:باقی رہنے والی کے لیے تڑپنے اور گزرے لمحات پر آہیں بھرنے کا نام تصوف ہے۔
(5055)…حضرتِ سیِّدُناشریح بن حارث عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ ارِث فرماتے ہیں:ظالموں نے جس کی بھی حق تلفی کی عنقریب اس کا حق جان لیں گے، ظالم عذاب کا منتظر ہے اور مظلوم مدد کے انتظار میں ہے۔ 
بھلائی کا وعدہ:
(5056)…حضرتِ سیِّدُناشریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاؤں میں تکلیف ہو گئی چنانچہ آپ نے اس پر شہد کی مالش کی اور دھوپ میں بیٹھ گئے، جب عیادت کرنے والے آپ کے پاس آئےتو پوچھا: کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بہتر ہے۔ لوگوں نے کہا:طبیب (ڈاکٹر) کو دکھایا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں میں ایسا کر چکا ہوں۔ لوگ پھر گویا ہوئے:طبیب نے کیا کہا؟ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اس نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔
رضا الٰہی پر راضی:
(5057)…حضرتِ سیِّدُناشریح بن حارث عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ ارِثکے انگوٹھے میں ایک پھوڑا نکل گیا، لوگوں نے کہا: بہتر ہے کہ طبیب کو دکھا دیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: طبیب  ہی نے تو یہ نکالا ہے۔
(5058)…حضرتِ سیِّدُناعَبْدَہ بن ابو لُبابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور مروان کے درمیان نو سال تک جنگ رہی لیکن حضرتِ سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نہ کسی سے خبر گیری لی نہ کسی کو دی(یعنی اس طرف دھیان ہی نہیں دیا)۔
(5059)…حضرتِ سیِّدُنا شريح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جنگ رہی لیکن میں نے کبھی اس کے متعلق نہیں پوچھا۔ ایک شخص کہنے لگا: اگر میں آپ کے جیسا ہوتا تو مجھے اپنے مرنے کی بھی پروا نہ ہوتی کہ کب مرتا ہوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:جو میرے دل میں ہے اس کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ہو سکتا تھا۔