Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
170 - 475
فرمایا:کوفہ میں ان سے بہترین سند حدیث کسی کی نہیں۔مزیدفرمایا: اب میرے اور حضرت یحییٰ بن مَعین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنکے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں رہا جو ان کی سند سے حدیث بیان کرے، پھر آپ نے حضرتِ سیِّدُناحارث بن سوید کی ان مرویات کا ذکر کیا جو امام اعمش نے حضرتِ سیِّدُناابراہیم نَخَعی کی سند سے بیان کیں۔
(5053)…حضرتِ سیِّدُناحارث بن سویدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو فرماتے سنا: حج کرلو، اس سےپہلے کہ حج نہ کر سکو، میں گویا کہ اس گنجے حبشی  کو دیکھ رہا ہوں جس کے ہاتھ میں کدال ہے اور وہ کعبہ شریف کوٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔(1) میں نے امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےعرض کی: یہ بات آپ اپنی رائے سے فرما رہے ہیں یا پھر حضور عالِم ما کان و مَایَکُونصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے؟آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو پھاڑا اور سانس کو جاری کیا یہ میں نے تمہارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی سے سنی ہے۔(2)

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرت سیّدُنا حارث بن قیس جُعْفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی
	تابعین کرام میں سے ایک حضرتِ سیِّدُناحارث بن قیس جعفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی بھی ہیں۔
(5054)…حضرتِ سیِّدُناحارث بن قیس جعفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: جب تو آخرت کے معاملے میں لگا ہو تو اسی میں ڈٹا رہ اور جب دنیا کے معاملے میں ہو تو جلدی سے ختم کر، جب توکسی نیک کام کا ارادہ کرے تو تاخیر مت کر اور جب تو نماز پڑھ رہا ہو اور شیطان تیرے پاس آکر کہے کہ تو ریاکار ہے تو نماز کو اور لمبا کر دے۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یعنی بہت پست قد دبلا پتلا کمزور شخص حبشہ کے لشکر میں ہو گا جو مکہ معظمہ پر غالب آنے کے بعد کعبہ معظمہ ڈھا دیگا۔ یہ واقعہ قیامت کے قریب ہو گا جس کے بعد دنیا برباد ہو جائے گی اور قیامت آجائے گی، کیونکہ دنیا کی آبادی کعبہ معظمہ سے وابستہ ہے جب تک یہ قائم ہے دنیا قائم ہے یہ گرا اور برباد ہوا کہ دنیا گئی۔(مراٰۃ المناجیح، ۴/ ۲۰۳)
2… سنن الکبرٰی للبیھقی، کتاب الحج ،باب ما یستحب من تعجیل...الخ،۴/  ۵۵۶ ،حدیث: ۸۶۹۸