تم سے روک سکتی ہے، بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے عدل وانصاف سے راحت اور خوشی کو رضا ویقین میں اور رنج وغم کو شک اور ناراضی میں رکھا ہے۔(1)
دلوں کی فطرت:
(5018)…حضرتِ سیِّدُناحسن بن عمارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکو خبر ملی کہ حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کی مذمت کی ہے تو انہوں نے امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف کپڑوں کا ایک جوڑا بھیج دیا۔ چنانچہ اب یہ ان کی تعریف کرنے لگے کسی نے کہا: حضور! پہلے آپ نے ان کی مذمت کی اور اب تعریف کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے حضرتِ سیِّدُناخیثمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: دلوں کی فطرت ہے کہ جو ان پر احسان کرے اس سےمحبت کرتے ہیں اور جو ان سے برائی کرے اس سے نفرت کرتے ہیں۔(2)
سب سے سخت عذاب:
(5019)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ مظہر نور خدا،جناب احمد مجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: بروز قیامت سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہو گا جس نے کسی نبی کو شہید کیا یا جسے نبی نے قتل کیا، پھر ظالم حکمران کو اور تصویر بنانے والوں کو۔(3)
نوکر کو اس کا حق دو:
(5020)…حضرتِ سیِّدُناطلحہ بن مُصَرِّف اور حضرتِ سیِّدُناخَیْثَمَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَافرماتے ہیں:ہم حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپ کا مقرر کردہ وکیل (منشی) آیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاس سے فرمایا: کیا تم نے غلام کو اس کا خرچ دے دیا؟ اس نے عرض کی: نہیں۔آپ نے فرمایا:جاؤ(اور اسے خرچ دو) کیونکہ حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر ، ۱۰/ ۲۱۵،حدیث: ۱۰۵۱۴ ،دون ” الشك“
2… مسند الشھاب ،۱/ ۳۵۰ ،حدیث: ۵۹۹
3…معجم کبیر، ۱۰/ ۲۱۶ ،حدیث: ۱۰۵۱۵