حضرتِ سیِّدُنا خیثمہ بن عبد الرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننےچند بزرگ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا زمانہ پایا اور جن سے احادیث لیں ان میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود، حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمرو بن عاص، حضرتِ سیِّدُناعدی بن حاتم اور حضرتِ سیِّدُنانعمان بن بشیرعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسر فہرست ہیں۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کئی بزرگ تابعین سے بھی روایات بیان کیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سُوَیْد بن غَفَلہ، حضرتِ سیِّدُناابو عَطِیَّہ مالک بن عامر ہَمْدانی، حضرتِ سیِّدُناابوحذیفہ سَلَمَہ بن صُہَیب اور حضرتِ سیِّدُنا قیس بن مَروان رَحْمَہُمُ اللہُ السَّلَام۔
جن ائمہ دین اور تابعینرَحِمَھُمُ اللہِ الْمُبِیْننےحضرتِ سیِّدُناخیثمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایات بیان کی ہیں ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں : حضرتِ سیِّدُنا امام اَعْمش، حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصَرِّف، حضرتِ سیِّدُنا منصور بن مُعْتَمِر، حضرتِ سیِّدُنا عاصم بن بَہْدَلہ اور حضرتِ سیِّدُنا عَمْرو بن مُرَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔
سیِّدُنا خَیْثَمَہ بن عبد الرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کی مرویات
(5016)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: نمازِ عشا کے بعد گفتگو کرنا صرف مسافر یا نمازی کے لیے جائز ہے (1)۔(2)
رنج و غم کی وجہ:
(5017)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی مول لے کر کسی کو ہرگز راضی مت کرنا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر کسی اور کی تعریف ہرگز مت کرنا، جو چیز اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں نہ دے اس پر کسی کو ملامت مت کرنا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رزق کو نہ کسی لالچی کا لالچ تم تک پہنچا سکتا ہے اور نہ کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیگی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… نماز عشاء سے پہلے سونا اور بعد نماز عشاء دنیا کی باتیں کرنا،قصے کہانی کہنا سننا مکروہ ہے،ضروری باتیں اور تلاوت قرآن مجید اور ذکر اور دینی مسائل اور صالحین کے قصے اور مہمان سے بات چیت کرنے میں حرج نہیں،یوہیں طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ذکر الٰہی کے سوا ہر بات مکروہ ہے۔(بہار شریعت، حصہ۳ ،۱/ ۴۵۳)
2… مسند احمد ،مسند عبد الله بن مسعود ، ۲/ ۱۷ ،حدیث: ۳۶۰۳