Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
149 - 475

حضرت سیّدُنا خَیْثَمہ بن عبد الرحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان
	حضرتِ سیِّدُنا خیثمہ بن عبد الرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبھی تابعی بزرگ ہیں۔آپ دوستوں کی خوب خیر خواہی اور مہمان نوازی کرنے والے، نعمتوں پر بھروسا کرنے والے اور حُصُولِ نعمت کے خواشمند تھے۔
	منقول ہے: باقی رہنے والے بدلے کے لیے فانی سامان سے کنارہ کش ہو جانا تصوف ہے۔
(4972)…حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا خیثمہ بن عبد الرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کو وراثت میں دو لاکھ درہم ملے تو آپ نےسب کے سب فقرا اور فقہا پر تقسیم کر دیئے۔
آپ کی خیر خواہی:
(4973)…حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا خیثمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کھجور وگھی کا حلوہ اور عمدہ کھانا بناتے پھر حضرتِ سیِّدُناابراہیم نَخَعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاور ہمیں دعوت دیتے پھر فرماتے: مجھے اس کی خواہش نہیں، آپ لوگ اسے کھائیے یہ میں نے صرف آپ  ہی کےلیے بنایا ہے۔
(4974)…حضرتِ سیِّدُنا خیثمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی چارپائی کے نیچے ایک ٹوکری ہوتی جس میں کھجور اور گھی کا حلوہ ہوتا، جب قُرَّاء  کرام اور آپ کے دوست آتے تو آپ وہ ٹوکری نکال کر ان کے سامنے رکھ دیتے۔
(4975)…حضرتِ سیِّدُنااعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: جب ہم حضرتِ سیِّدُنا خیثمہ بن عبد الرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کے پاس جاتے تو آپ اپنی چارپائی کے نیچے سے ایک ٹوکری نکالتے اور فرماتے: آپ سب کھائیے، خدا کی قسم! مجھے اس کی کوئی خواہش نہیں یہ میں نےصرف آپ لوگوں کے لیے ہی بنایا ہے۔
دوستوں سے حسن سلوک:
(4976)…حضرتِ سیِّدُنا امام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:بعض اوقات   ہم حضرتِ سیِّدُنا خیثمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس جاتے تو آپ اپنی چارپائی کے نیچے سےایک ٹوکری نکالتے جس میں گھی اور کھجور کا حلوہ اور فالودہ ہوتاپھر فرماتے: مجھے اس کی کوئی خواہش نہیں، آپ لوگ کھائیے یہ میں نے آپ کے لیے ہی بنایا ہے، آپ ایک تھیلی میں درہم رکھا کرتے تھے اور فراخ دست بھی تھے  ، جب آپ کے پاس کوئی دوست آتا اور